Home > Articles / Column > پیلٹ کے بعدپلاسٹک گولیوںسے شکار تحریر:موسیٰ غنی،کراچی

پیلٹ کے بعدپلاسٹک گولیوںسے شکار تحریر:موسیٰ غنی،کراچی

کشمیر کی وادیاں اب خون کے رنگ میں رنگ چکی ہیں اب کشمیر کے بچوں میں نہ ہی موت کا خوف ہے اور نہ بھارتی افواج کا ڈر جس طرح برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اب تک کشمیرمومنٹ نے زور آزمائی کی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی مگر قابض افواج یا تا اپنے آپ کو اسرائیل سمجھ رہی ہے یا بلکل بوکھلا گئی ہے پیلٹ گن سے بارہ سوسے زائد بچوں کی شہادت اور درجنوں زخمی کرنے کے بعد اب بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے کا سہارا لیتے ہوئے خواتین کی چوٹی کاٹنا بھی شروع کردیا ہے جو کہ نہ کسی ہیومن رائٹس کی توجہ کا مرکز ہے اور نہ ہی کسی عالمی فورم کا مدعہ کیوں کہ یہ مسلمان ہیں مودی کی جارحانہ پالیسی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ اب سے کشمیریوں پر پلاسٹک بلٹ استعمال کی جائے گی بھارت کی جانب سے روز روز نئے مظالم نے کشمیریوں کو بغاوت پر بہت بری طرح اکسا دیا ہے ۔
مودی کے آنے کے بعد سے کشمیر میں جو تحریک دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے نہ تو پاکستان نے فائدہ اٹھایا اور نہ ہی کشمیر کے مسئلے کوعالمی فورم کی زینت بنایا جس طرح پالیسی بیان کشمیر پر جاری کئے جارہے ہیں اس سے کشمیریوں میں ہل چل ہے پاکستانی میڈیا ہو یا کسی صحافی ان کی صبح بھی پانامہ فیصلہ ہوتی ہے اور رات بھی ہم کو اب سے باہر آکر کشمیر کے لئے آواز اٹھانا ہوگی ورنہ شاید قائداعظم کا خواب ہم کبھی پورا ہوتے نہ دیکھ سکیں اور اس کی ساری ذمہ داری ہماری موجودہ اور سابقہ حکومتوں کی ہوگی بھارت کے ساتھ اچھے روابط کیلئے ہم کشمیریوں کو ستر سال سے قربان کررہے ہیں ہمارے وہ حریت رہنما ءکبھی پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی پر جھول رہے ہیں کچھ زندگی اور موت کے دھانے پر ہیں ،کشمیر کے ہر فرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت ،بچہ ہو یا بوڑھا سب نے قربانیاں دی ہیں ان کی قربانی کی قدر پاکستان کو اب کرنے کی ضرورت ہے بھارت کے ساتھ روابط ہوں یا نہ ہوں اس سے کوئی سروکار نہ ہی کسی پاکستانی کو ہے اور نہ کشمیری کو ۔
اس ملک کے بیس کڑوڑ عوام اور ان ساتھ کشمیریوں کا ایک پیغام ہے :کشمیر بنے گاپاکستان ہم کو اب اس نقشے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے خواہ وہ مزاکرات سے ہو یا جنگ سے لیکن اگر معملات یوں ہی چلتے رہے تو ایک نہ ایک دن مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کی سرحدیں توڑ دے گا اور ان کا شاید ہم گمان بھی نہیں کررہے ہیں ۔
خدارا اب اس قوم کے حکمرانوں کو جگایا جائے ورنہ ہم بہت دیر کردیں گے کشمیر میں ہماری ماو ¿ں بہنوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں بھارتی فوج نے معمول بنالی ہیں ہم اس قو م کے سپاہی ہیں جس کی ایک بہن اور ماں للکار پر ہم نے پورا ہندوستان فتح کرلیا تھا اور دنیا کو بتایا تھا کہ مسلمان سب برداشت کرسکتاہے لیکن ماو ¿ں بہنوں کے ساتھ زیادتی اور بے شرمی یہی پیغام ہم کو آج بھی دشمن کو دینا ہوگا اور قوم مسلم کو یکجا ہونا ہوگا ۔
تحریر:موسیٰ غنی،کراچی

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares