Home > Bagh News > ,زلزلہ میں ازادکشمیر میں ضلع مظفراباد باغ و راولاکوٹ میں سب سے زیادہ نقصان ھوا قاری صادق حیات

,زلزلہ میں ازادکشمیر میں ضلع مظفراباد باغ و راولاکوٹ میں سب سے زیادہ نقصان ھوا قاری صادق حیات

کھوڑی چنہ قاری محمد صادق حیات ترابی سے وہ وقت جب یاد اتا ھے تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ھے کہ سحری بہت خوشی اور اطمنان سے کھای تھی کہ رمضان کریم ھے اور،ھم کل کا روزہ رکھیں گے مگر کس کو پتہ تھا کہ کل روزہ کے ساتھ ساتھ اک بڑے صدمہ سے بھی گزرنا پڑے گا ھوا کچھ یوں کہ وہ میری عظیم ماں جس  نے   مجھ کو کبھی گرم ہوا نہں لگنے دی تھی اج میرے سامنے میرے گھر کے نیچے اکر شھید ھو جائیں گی کس کو علم تھا اسمان نے یہ منظر دیکھا کہ وہ لوگ جو ارام کے ساتھ سوے ھوے تھے بس وہ سوتے ھی رھے گے ھمیشہ کے لیے اس،زلزلہ میں ازادکشمیر میں ضلع مظفراباد باغ و راولاکوٹ میں سب سے زیادہ نقصان ھوا سکول تباہ ھوگے ھسپتال تباہ ہوگیا مکان تباہ ھو گے میری یونین کونسل علی سوجل میں کوی 36 لوگ شھید ھوے اور سیکڑوں زخمی اور سیکڑوں مکان تباہ ھوے ھزاروں لوگ بے گھر ھوے مکان تو کچھ نا کچھ کر کے لوگوں نے بنا دیے مگر یونین کونسل میں تباہ ھونے والے سکول ابھی تک سارے تعمیر نہں ھوے اج بھی بچے بچیاں کھلے اسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرتے ھیں جن میں موھانڈ شریف کا پرایمری سکول بھی شامل ھے اس سکول کی طرف کسی حکومت کے بندے نے نظر اٹھا کر بھی نہں دیکھا گزشتہ دور حکومت میں تو اس سکول میں پڑای بھی نہں ھوی کیوں کہ ٹیچر ھی حاضر نہں رھتی تھی ایسی طرح کھوڑی چنہ بوایز پرایمری سکول ٹنگی ھل بھی تعمیر نہں ھوا قینچی کوٹ گرلز پریمری سکول بھی ابھی تک تعمیر کا منتظر ھے موجودہ حکومت سے درد مندانہ اپیل ھے کہ وہ زلزلہ میں تباہ ھونے والے سکول ڈسپنسریوں کو جلد تعمیر کرے اور ایرا اور،سیرا کے نام سے محکمہ بناے گے ھیں ان کو فعال کرے اور کام کرواے یہ لوگ لاکھوں میں سلیریاں لیتے ھیں مگر عوام کے کام نہں کرتےاس کے  میرے دل میں ایک ہی خیال تھا واہ رہے کشمیر کس کی نظر لگ گئی ہر طرف خونریزی لوگ موت کی کشما کش میں بچے سکولوں کے اندر ایسی طرح دفن کیا جارہا تھا ہر طرف قیامت صغریٰ کا سماں ایک قبر کی جگہ بیس قبریں نکالی جارہی تھی کئی علاقوں میں دفن کے کرنے کے لیے ادمی ھی نہں تھے دو  یا تین لوگ دفن کیے  جارہے تھے  کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی چاروں اطراف مایوسیوں کا عالم تھا آف رہے کیا قیامت تھی یہ دہشت دن کوئی نہیں بھول سکتا مگر آزادکشمیر حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے کوئی خاص ریلیف نہیں ملا آزادکشمیر حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے تعمیر نو میں کافی کمی ہوہی مرنے والے مرچکے تھے مگر جو ریلیف پیکیج تیار تھا وہ عوام کو نہیں ملا جس کی لاٹھی آسکی بھس وہ پیسوں کیلئے مرچکے تھے خوف خدا جبکے دل میں نہیں تھا بہت کچھ عرصہ گزار گیا دل خون کے آنسو روتا ہے. 12   سال تک ابھی تک آزادکشمیر حکومت تعمیر نو مکمل نہیں کر سکی جسطرح ہونی چاہیے تھی اللہ شہیدوں کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور مستقبل میں سب کو ایسی صورتحال ازماش اور دنیا پرستی سے محفوظ رکھے آمین

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares