Home > Srinagar News > سنجوان ملٹری اسٹیشن جموں میں 32گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونین معرکہ آرائی اختتام پذیر 

سنجوان ملٹری اسٹیشن جموں میں 32گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونین معرکہ آرائی اختتام پذیر 

سنجوان ملٹری اسٹیشن جموں میں 32گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونین معرکہ آرائی اختتام پذیر
5فوجی اہلکار ، ایک عام شہری اور 4فدائین جنگجو ہلاک ، ایک درجن کے قریب زخمی ، علاقے میں تلاشی کارروائی جاری
سرینگر/ 11 / فروری/ مظفر خان جموں کے ملٹری اسٹیشن پر قریب 32گھنٹوں فدائین جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان جھڑپ اختتام پذیر ہوئی جس دوران 5فوجی اہلکار ، ایک عام شہری اور چار فدائین جنگجوﺅں ہلاک ہو گئے ۔ ادھر علاقے میں تلاشی آپریشن جاری ہے جبکہ حملے کے بعد جموں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے جبکہ حملے کے بعد سرحدوں پر تعینات سیکورٹی فورسزکو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں ۔جموںسے نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے جو تفصیلات فراہم کی ہیں، ان کے مطابق ریاست کی سرمائی راجھانی سنجوان جموں میں سنیچروار کی اعلیٰ صبح اس وقت گولیوں کی گن گرج سے لوگ سہم کر رہ گئے جب خود کارہتھیاروں سے لیس جنگجوو ¿ں کا ایک گروپ علاقے میںقائم 36بریگیڈ کے فوجی کیمپ کے باہر اچانک نمودار ہوا اور کیمپ کے مین گیٹ پر تعینات سنتری کانسٹیبل پر نزدیک سے فائرنگ کرنے کے بعدگولیاں اور ہتھ گولے داغتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہوگئے۔تھے معلوم ہوا ہے کہ قریب 32گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خونین معرکہ آرائی میں فورسز کے 5اہلکار جن میں صوبیدار مدن لعل ،صوبیدار محمد اشرف میر ،حوالدار حبیب اللہ قریشی ،لائنس نائیک محمد اقبال کے علاوہ ایک عام شہری ہلاک ہوا اور جوانی کارروائی میں 4فدائین جنگجوﺅں جاں بحق ہوگئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین گولی باری کے نتیجے میں 11افراد جن میں فوجی جوان ،خواتین اور بچے بھی شامل ہیں زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی ایک کو علاج کیلئے چندی گڑھ اور نئی دہلی منتقل کیا گیا ۔ فورسز نے کیمپ کے اردگر کے وسیع علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کر دی ۔واضح رہے کہ 10فروری صبح 4بجے کے قریب عسکریت پسندوں نے سنجوان فورسز کیمپ پر فدائین حملہ کیا تھا اور 3سے 4عسکریت پسندوں نے گرینیڈ داغتے ہوئے جے سی اوز کواٹر میں پناہ حاصل کرنے کے بعد فورسز کے ساتھ دوبدو لڑائی شروع کی۔دفاعی ترجمان نے گذشتہ شام یہاں سنجوان کیمپ کے باہر موجود نامہ نگاروں کو بتایا ’حملہ آوروں نے جنگی وردی پہن رکھی تھی۔ وہ اے کے 56 رائفلیں، ہینڈ گرینیڈ اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود لیکر آئے تھے۔ ان کے قبضے سے برآمد ہونے والی چیزوں سے صاف ہوگیا ہے کہ ان کا تعلق جیش محمد سے تھا‘۔ یہ جموں میں رواں برس ہونے والا پہلا فدائین حملہ تھا۔ حملے کے پیش نظر پورے صوبہ جموں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے ۔ حملہ آوروں سے نمٹنے کے لئے انڈین ائر فورس (آئی اے ایف) کے پیرا کمانڈوز کو بھی کام پر لگادیا گیا تھا ۔ یہ کیمپ جموں پٹھان کوٹ شاہراہ پر واقع ہے، تاہم حملے کے باوجود شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور ریاستی پولیس کے اہلکار مشترکہ طور پر آپریشن میں مصروف رہے۔ ضلع انتظامیہ کے احکامات پر ہفتہ کو احتیاطی طور پر سنجوان بیلٹ میں آنے والے تمام اسکول بند رہے۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares