Home > Articles / Column > 31 دسمبر 1987 یوم وفات حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)

31 دسمبر 1987 یوم وفات حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)

31 دسمبر 1987 یوم وفات حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)
تحریہ …..عبدالواجد ………..خطیب کشمیر,خطیب اسلام,.مجاھد ملت,شعلہ بیاں,واعظ شیریں مقال کے عنوانات سے پکارے جانے والے حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)جن کے بارے میں لکھنے والےلکھتےھیں کہ آپکی مثال اس پھول کی مانند ھے جس کی ھر پھنکڑی ایک مستقل کمال کی مظہرھوتی ھے.جس سے ٹپکنے والا شبنم کا ھر قطرہ مردہ دلوں میں حیات نور پیدا کرتا ھے.اور ان کے غم کو مسرت سے ہمکنار کرتا ھے. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)جنوری 1915کو خطہ تھوراڑ کے گاوں(پندی)کے مقام پہ پیدا ھوے.اپ کے والد محمد ایوب خان جن کا شمار اس وقت کے علماء اور علاقےکے ایک مقتدر دینی شخصیت سمجھے جاتے تھے.اور لوگ ان کا بہت ادب واحترام کرتے تھے.اپ کا تعلق بہادر جنگجو کشمیری قبیلہ سروزی سے تھا… حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے ابتداہی تعیلم اپنے والد متحرم سے حاصل کی …پھر راولپنڈی,اٹک,پنڈی گھیپ,جہاں سے عربی,فارسی کی کتب پڑتے رھے.علوم نقلیہ و عقلیہ میں جامع معقول و منقول قاضی شمس الدین مرحوم سے وافر حصہ پایا.حضرت مولانا حسین علی واں بچھراں سے قران پاک کا ترجمہ و تفسیر حاصل کی. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے انتہاھی تنگ دستی کے باوجود جامعہ دارالعلومدیوبند میں داخلہ لیا..اور ان علماء سے کسب فیض ھوے جو اپنے اپنے فن میں آفتاب و مہتاب تھے.اور ایسا شاگرد تیار ھوا جو خود علم کا سمندر کہلایا.اور جس کے علم کی بارش سے آج تک ریاست کشمیر کی عوام فیض یاب ھو رہی ھے .. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) نے اکثر فر مایا کے استادوں کی دعا ھے..جس نے مجھے یہاں تک پچہایا.. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح,44.1943میں اپنی تعیلم مکمل کر کے جب واپس کشمیر تشریف لاے تو اس وقت عوام کی اکثریت غیر اسلامی رسومات واھامات میں مبتلا تھی حتکہ جو لوگ مسلماں تھے وہ بھی نماز جمہ سے غافل تھے.اگر یوں کہا جاے تو غلط نہ ھو گا کے مسلمان تو تھے لیکن دین اسلام کی اصل تعلمیات سے محروم تھے..اس وقت عزیزآباد کی عوام نمازیں عیدیں مولانا کے والد کی امامت میں ان کے گھر کے اوپر پندی میں ادا کی جاتی تھی. کیوں کہ اس وقت ڈوگرا راج تھا .اور یہ غیر اسلامی رسومات کو مسلماں سے ختم کرنا اسان بات نہیں تھی.ایک مولانا صاحب نے بتایا کہ ان کے علاقے بیسہ بگلا تھب باغ کا علاقہ ھے میں حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)کی امد سے پہلے نماز,روزہ,جمعہ کی کوی پابندی نیں تھی.حضرت وہاں تشریف لے جاتے پیدل اور ان کو اسلامی تعلمات سے آگاہ کیا.. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے لوگوں کو شرک و بدعت سے اجتناب کرنے اور توحید و سنت کے عین مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے کا درس دیا..کیونکہ ہندوسامراج کی غلامی کی وجہ سے مسلمانون کے دلودماغ کرب و بلا کی آماجگاہ بنے ھوے تھے. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے ہندوسامراج کی غلامی کے اثرات مٹانے کیلےتحرک کا آغاز کیا ..اپ میدان خطابت کے شہسوار تھے.گونج دار جوشلی اواز علوم معارف کی بھر مارنے جلد ھی عوام و حواص کو اپنی طرف متوجہ کر دیا.آپ کو فارسی ,عربی,پنجابی ,ارود پہ مکمل مہارت حاصل تھی..دوران خطابت ان زبانون میں اشعار خاص انداز سے پڑتے تھے.آپ کا نام سنتے ھی لوگ آپ کی طرف پراونہ وار جمع شروع ھو جاتے. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) بولتے تو موتی رولتے.لطیفے گوی و بذلہ سنجی ایسےموقع کے مناسب کرتے معلوم ھوتا کہ یہ ابھی تیار کیا ھے کلام میں ظرافت کی چاشنی ھو تی.پل میں رولاتے پل میں ہنسا دیتے.ایسا فن خطابت کے مسلمان تو مسلمان ہندو بھی آپ کی تقریر کو شوق سے سنتے..1946 میں پونچھ شہر(مقبوضہ کشمیر)میں ایک سیرت کانفرس میں ہندو وزیر کی موجودگی میں ایک ولولہ انگیز تقریر کی جس سے مذہب اسلام اور داعی اسلام کی حقانیت ایسے عمدہ انداز سے ثابت کی کہ اس مجع کے سامعین آج بھی اس کی چاشنی محسوس کرتے ھیں.اس معرکتہ الاراء تقریر ہندوذہنیت کے حوصلے اس قدر پست ھوے کے حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)پر چھ ماہ کے لیے زبان بندی کی پابندی لگا دی گی..اور اسی تقریر پر آپ کو خطیب کشمیر کے لقب سے نوزا گیا..اس کے ساتھ ساتھ ہندو سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے لیے ذہین سازی شروع کر دی.اپنی تقاریر میں لوگوں کو جہاد کی طرف متوجہ کیا اور ان کو یقین دلایا بغیر جہاد ہندو سامراج سے آزادی ممکن نہیں….آپ نے لوگوں کو جہاد کیلے منظم کرنا شروع کر دیا..اس کہ لیے دن رات منحت کی..اور ساتھ مساجد و مدارس کا قیام بھی کیا.جن میں روالاکوٹ کی مرکزی مسجد اور اس میں شعبہء حفظوناظرہ قران کا اہتمام کیا.اسی طرح اپ نے تھوراڑ میں بھی کحچی مسجد کی بنیاد رکھی اس وقت تھوراڑ میں صرف 3,4 دوکانیں تھی..جب حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے دیکھا کے لوگ مکمل طور پر ہندو سامراج کے خلاف جہاد کے لیے منظم ھو گے ھیں تو اپ نے جسہ پیر کے بلند مقام پر قران پاک کو ایک درخت کے ساتھ باندھا اور خود اور لوگوں کو اس درخت کے نیچے سے گزار کر یہ عہد لیا کے اب کٹ جاے گے.مر جاے گے جہاد کرتے ھوے جانیں دیں گے لیکن اب ہندوسامراج سے آزادی حاصل کر کے رھیں گے..تمام شرکاء سے اسی طرح عہد لیا.اور سب نے بخوشی قبول کیا. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) جنگ آزادی میں بنفس نفیس شریک رھے.غازی ملت سے آپ کا بہت قریبی اور گہرا تعلق تھا.جب جہاد کا اغاز ھوا تو مسلمانوں کے پاس جنگی ہتھیاروں نام کی کوی شہ نیں تھی.صرف جذبہ جہاد تھا جو حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے اپنی تقایر سے لوگوں کے دلوں میں بھرا ھوا تھا.. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے غازی ملت کے ساتھ خود جا کر مری سے کچھ رافلیں حاصل کی.مگر راستے میں دریا جہلم تھا پلوں پر مہاراجہ کی فوج کا کنڑول تھا.جب ان ہتھار کو پار لے جانے کا مرحلہ ایا تو حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نے خود اور ان کے ساتھیوں نے دریا جہلم کی تیزو تند لیروں کو عبور کیا.اس طرح کچھ ہتھار (رافلیں ) ملی.ادھر حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)کے ہاتھ پر بیت صوبیدارالللہ دتہ نے مجاھد گلہ کےمقام پر قیام پزیر مجسڑیٹ جگت رام کو اور اس کے دو محافظ کو گولی مار کر قتل کر کے باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا..(مجاھد اول میری معلومات میں وھی ھیں) جب معرکہ تھوراڑ کا آغاز ھوا تو حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)نہ صرف بنفس نفیس شریک تھے بلکہ ایک جتھا کی باضبط کمان کر رھے تھے .اس معرکہ میں ایک ہی وقت میں چھتیس شہداء کرام نے جام شہادت نوش کیا..جس میں میرے نانا جی مختار خان(سردی) بھی شامل تھے..ان شہداء میں ایک خاتون بھی شامل ھے.اس کے بعد حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح)راولاکوٹ پونچھ ,چیڑی کوٹ محاز تک ہندو فوج کے تعاقب میں گے.پھر ایک سازش کے تحت مجاھدیں کو لڑنے سے روک دیا گیا ورانہ مجاھدین کا آخری ٹھکانہ سری نگر تھا..اور ایک آزادخود مختار ریاست کا قیام عمل میں آنا تھا.بدقسمتی سے مجاھدیں سے جو کام ادھور رھا وہ آج تک ادھور ہی ھے. یہ خطہ جو آدھا آزاد ھوا آپ نے یہ کوشش شروع کر دی کہ اس میں مکمل اسلامی نظام نفاز کردیا جاے.آپ کی کامیاب کو ششوں کے نیتجے میں سب سے پہلے محکمہ افتاء قایم ھوا.یہ آذاد کشمیرمیں اسلامازیشں کی پہلی کوشش تھی.آپ کچھ عرصہ محکمہ افتاء سے وابستہ رھے اور از خود ہی اس سے سکدوش ھو گے. شاھدین کا کہنا ھے کے آپ نے یہ سبکدوشی اپنے ایک دوست کیلیے اختیار کی…اور ان کو اپنی جگہ دے دی.بعد میں بھی جب ریٹایرڈ جنرل حیات خان صدر بنے تو معاشرے کی اصلاح کے حوالے سے علماءومشاخ کی کانفرس مظفرآباد منعقد کی گی.مولانا تھوراڑوی کو بھی اس میں شرکت کی حصصوصی دعوت دی گی آپ نے اپنے خطاب میں بہت سی تجاویز دی ان میں اہم تجویز ذراع ابلاغ-ریڈیو -ٹی.وی اخبار کی اصلاع کی جاے.گندہ مودہ جو اخلاق پر اثرانداز ہو پر مکمل پابندی عاہد کی جاے..فحش لڑیچراور فحش تصاویر کی اشاعت پر پابندی لگا دی جاے.گانے بجانے بند کے جاے.صدر صاحب نے اپنی تقرر میں مولانا کی بات کو تسلم کیا کہ نشرواشاعت کے ذراع کو درست کرنا بہت ضروری ھے. . جب آپ مکمہ افتاء کے منصب سے سبکدوش ھوے تو آپ نے درس وتدریس کے فراض انجام دینے شروع کیا.آپ نے سب سے پہلے مشہورپاکستان کی درس گاہ مدرسہ تعلیم القران راجہ بازار سے درس و تدریس کا عمل شروع کیا.
ایک سال تک وھاں رھے..اس کبعد آپ نے آزادکشمیر کی مشہور دینی درسگاہ دارلعلوم تعلیم القران پلندری میں بھی کچھ عرصہ درس و تدریس کے فراض سر انجام دتیے رھے.پھر اس کبعد آپ کی توجہ کا مرکز راولاکوٹ اور تھوراڑ
رھا.تھا…کیوں کے یہ آپ کے آباہی علاقے تھے.اور یہاں کی عوام بھی آپ سے بےحد پیار و محبت کرتے تھے..اور آپ کی آواز پر کسی بھی قربانی سے دریغ نہں کرتے تھے .جس کی ایک مثال اوپر 1947 جسہ پیر کے واقعہ سے ملتی ھے.اور باقی بعد میں ذکر ھو گی.آپ نے راولاکوٹ کی مرکزی مسجد عوامی چندے سے تعمیر کروای.اور اس میں مدرسہ جامعہ اسلامیہ کا آغاز بھی کیا.اسی طرح تھوراڑ میں جامع مسجدو مدرسہ تعلیم الفرقان تھوراڑ کی بنیاد رکھی ..آپ سے عوام کو اس قدر عقیدت تھی کے راولاکوٹ کے لوگوں کی خواہش تھی کے آپ مہنے کے چاروں جمعے راولاکوٹ میں خطابت کرے اور تھوراڑ کی عوام کی خواہش تھی کے آپ تھوراڑ میں خطابت کرے..کیونکہ آپ کی تقریر پر عوام فدہ تھی.اتنا سہنرہ انداز کے شاھد الفاظ نیں جن میں تحریر کرو.حافظےکا تو یہ کمال تھا.کہ جو کتب ایک بار پڑھ لیتے دوبار پڑھنے کی ضرورت نہ ھوتی فن تقریرمیں تو صاحب طرز خطیب تھےدوسرے کسی کی تقریر کے مقلد نظر نہں آتے تھے ان کے حیسن مزاج کا شاہد ہی کوی مقابلہ کر سکےآپ اپنے مزاح سے محفل کو کشت زعفران بنا سکتے تھے یہاں تک کے عورتیں بھی مسجد کے قریب آکر آپ کی تقاریر سنتی تھی.آپ نے دونوں جگہوں کا خیال رکھتے ھوے دو جمعے تھوراڑ اور دو روالاکوٹ میں پڑھانے کا فیصلہ کیا..پیدل آپنے گھر پندی سے راولاکوٹ جاتے تھے..برف بارش تیزدھوپ ہر حال میں جاتے.اور اپنے فرض سر انجام دیتے.
صرف ان دو مساجد میں ہی نیں بلکہ آزادکشمیر کے دورداز مساجد میں بھی سالانہ پروگرمات میں دو دو دن کی پیدل مسافت طے کر شرکت فرماتے.اپنے ولوالنہ خطاب سے لوگوں کے دلوں میں جذبہ ایمانی کی نی روح پھونک دیتے آپ کا نام سنتے ہی مساجد پل بھر میں بھر جاتی یوں محسوس ھوتا کے شمع کے گرد پروانے جمع ھو گے ھیں.آپ آخری دم تک جامع مسجد روالاکوٹ و جامع مسجد تھوراڑ میں خطاب کے فراض ادا کرنے کے ساتھ دونوں مداس کے مہتمم رہے اس کے ساتھ جامع مسجد کی سرپرستی بھی کی اور ان مساجد کی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہے آپ کی تمام عمریہ یہ خدمات بلامعاوضہ تھی.جن آنکھوں نے ان کو دیکھا اور جن کانوں نے ان کو سنا وہ آج تک ان کی تقاریر کی چاشنی محسوس کر رھے ھیں.میری آنکھوں نے ان کو دیکھا نہیں لیکن ان کی ریکاڈ کچھ تقاریر سنی جو ایک خاص تاثر رکھتی تھی.ایسا انداز بیاں .ایسی شاعری.ایسا تلسلسل .الفاظ کا چنوہ.روتے روتے ہنسا لینا اور ہنستے ہنستے رولا لینا..بس ایک خواہش پیدا ھوتی ھے کاش یہ آنکھے بھی اس عظیم
شخصیت کا دیدار کر سکتی..اور اسی جذبے نے ٹوٹے پھوٹےالفاظ میں حضرت کی ذندگی پر لکھنے کی خواہش پیدا کی. ھندوں کے ساتھ رہتے ھوے بہت سی غیر شرعی روسومات مسلمانوں میں آگی تھی آپ نے خوشی,غمی بلکہ جو بھی غیر شرعی روسومات تھی ان سے عوام کو آگاہ کیا اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ادا کرنے کا درس دیا..آپ جو بھی غیر شرعی کام دیکھتے اس پر ایک دم منع کرتے..اگر پھر بھی نہ روکے تو سختی کرتے تھے.ارباب اختیار کی موجودگی میں بھی غیر شرعی کام پر ایک دم کھڑے ہو جاتےجس کی مثال غازی ملت کے صدرات میں راولاکوٹ کا جلسہ ھو یا صدر حیات خان کی زیر صدرات مظفرآباد کی کانفرس جس میں اسسٹیج سیکرٹری نے جنرل حیات صاحب کی تعریف و توصیف میں زمیں و آسمان کے قلابے ملانے شروع کیے یہاں تک کہ دیا کہ (بعدازخدابزرگ تو ہی قصہ مختصر) مولانا تھوراڑوی نےاک دم آگے بڑھ کر صدر صاحب کو خطاب کرتے ھوے کہا کے ان پڑھ سیکرٹری شخ سعدی کا مقولہ جو نبی پاک کیلیے تھا آپ پر فٹ کر رہا ھے جو کے غلط ھے.بہت غم و غصے کا اظہار کیا جس پر صدر صاحب نے اسیٹج سیکرٹری کو ہٹا دیا اور اس سے معازت بھی کروی.. .مساجد کے تعمیر کے کام کو جاری رکھتے ھوے آپ کے نام سے منسوب گاوں عزیز آباد میں جامع مسجد تعمیر کروای.اور اس کے ساتھ مدرسہ تعلیم اسلام کی بنیاد رکھی….یہ آپ کے تعمیر کردہ مساجد و مدراس آج بھی قایم ھیں بلکہ ان میں مزید بہت تعمیر و ترقی ھو گی ھے..اور اب صرف تھوراڑ کے اردگرد کم و پش 12 جامع مساجد اور بہت سی محلہ مساجد کا قیام اور ان کے ساتھ مدراس کا قیام ھو گیا. اور اسطرح راولاکوٹ کے اندر بے شمار مساجد و مدارس قایم ھو چکے ھیں.جو اپنے فرایض کو احسن طریقہ سے سرانجام دے رھے ھیں.اور ان سے فارغ تحیصل طلبہ و طالبات کی تعداد لاکھوں میں ھے یہ سب اس بیج کا پھل ھے جو حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) نے جامع مسجد تھوراڑ کے نام سے اور مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ کے نام سے لگایا تھا.. حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) نے صرف دینی علوم کیلیے ہی منحت کو محدود نیں رکھا بللکہ دونیوی تعلیم کیلیے آپ نے 1955 میں اپنے بھای (مولانا
عبدالللہ) کے گھر پندی میں (ماسٹر لقمان فراہم بلاڑی)کی مدد سے سکول کا آغاز اس وقت کے DI سے منظور کروا کر کیا.جو بعد میں وھاں سے رتہ گرونڈ پندی کے پاس شفٹ ہوا اور پھر اب مین روڑ کے اوپر گورنمٹ مڈل سکول پندی کے نام سے موجود ھے.جو کے ارباب اختیار کے مسلسل وعدوں کے باوجود ابھی تک ہای نیں ھوا.اسی طرح تھوراڑ میں مڈل سکول اور مڈل سے ہای سکول اور ہای سکول سے کالج کیلیے آپ نے دن رات کوشش کی یہاں تک کے اس وقت کے حکمران جب تھوراڑ تشریف لاے تو آپ نے اپنی تقریر میں ان کو مخاطب کرتے کہا کے ھم کو ھمارہ حق دیا جاے اس کیلیے ھم آپ کو پہلے تھوڑی کو ھاتھ لگاتے ھیں ھاتھ اپنی تھوڑی کو لگاتے ھوے ارشارہ کیا..اور اگر ھمیں یہ حق نہ دیا تو ھاتھ کے اشارے سے کہا کے ھم آپ کی گردن میں بھی ھاتھ ڈال سکتے ھیں.یہ کوی معمولی بات نہ تھی ایسا کوی بہادر قاید ہی ارباب اختیار کے منہ پر کہ سکتا تھا.اسی جلسے کے آخر میں مہمان خصصوصی نے اپنی تقریر میں مطالبہ پورا کرنے کا وعدہ کیا.اور بہت جلد ھای سکول کے بعد انٹر کالج کا نو ٹیفکشن جاری کیا..ارباب اختیا کے سامنے اپنی عوام کے حقوق کے حصول کے موقف پہ ڈٹ جانا ایک دفعہ کی بات نیں جب مین روڑ کا سروے ھوا اور اس میں کاہنڈی بلٹ کو باکل نظرانذہ کیا گیا تو آپ نے اس کے خلاف آواز بلند کی جب بات نیں مانی جا رہی تھی تو آپ نے اپنے اوپر جان نثار کرنے والے دوستوں اور عوام سے مشہورہ کیا اور منگ کے نیچے جا کر سروے کے جو نشانات لگے تھے ان کو توڑا ڈالا .اب ارباب اختیار اور محکمہ شاہرات کو سمجھ ای کے علاقہ کاہنڈی کو چھوڑ کر روڑ کو راولاکوٹ لے جانا ناممکن ھے.اس لیلے پہلے تو حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) کو لالچ دی گی کے اندروٹ کے پاس کہڈ سے آپ کو گھر تک الگ پکی روڑ دی جاے گی آپ چھپ ھو جاے ..لیکن حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی(رح) نے کہاں مجھے ذاتی مفاد نیں چاہے.میری عوام کا یہ حق ھے.یہ روڑ منگ سے ھوتی ھوی تھوراڑ آے پھر اگے راولاکوٹ جاے کیونکہ اس وقت ایک طرف روڑ کوٹلی ستیاں میں تھی اور ایک طرف پلندری اور یہ سڑک ان دونوں کے درمیان سے ھونی چاھے.تاکہ دونوں طرف کے لوگوں کو یکساں ھو.روڑ کسی بھی علاقے کی تعمیر ھو ترقی میں اھم کردار ادا کرتی ھے یہی وجہ ھے کہ جب تھوراڑ سے گزری تو تھوراڑ ایک مرکز بن گیااور لوگوں کو بنیاد سہولتوں کے حصول کے لیے سفر کرنا آسان ھو گیااور تھوراڑ بازار کی تعمیر میں اصافہ ہونے لگا..ورنہ اس سے پہلے آذاد پتن یا چولنے ناڑے سے اشیاء خردونوش لاتے تھے..صرف تھوراڑ ہی نیں بلکہ نکہ,سردی بھلگراں نڑ ,ٹاھیں.بوسہ گلہ,بیڑیں ,پاچھوٹ,عزیزآباد.تیتروٹ,چھپڑی .رھاڑہ.ٹوپہ اس علاقے میں جو بازار یا تعمیروترقی ھوی اس کا سہراخطیب کشمیر کو جاتا ھے کیونکہ روڑ کے بغیر یہ سب ناممکن تھا ان سب تحریکوں میں عوام علاقہ کاہنڈی ھر موقع پر اپنے قاہد کے شانہ بشانہ کھڑے رھیں.اور آپ بھی عوام کے ھر دکھ درد میں برابر شریک ھوتے.یہ مختصر سی کاوش تہی مولانا کی زندگی کے حوالے سے اگر اس مین کوئ کمی ہو .یا مزید معلومات ہو وہ براے مہربانی اس نمبر پر رابطہ کریں..03322399277…

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares