Home > Srinagar News > ۔30برسوں کے دوران90ہزار ہلاکتیں: 1988میں کم اور2001میں زیادہ اموات ہوئی

۔30برسوں کے دوران90ہزار ہلاکتیں: 1988میں کم اور2001میں زیادہ اموات ہوئی

۔30برسوں کے دوران90ہزار ہلاکتیں: 1988میں کم اور2001میں زیادہ اموات ہوئی
۔، انسانی حقوق کی مقامی تنظیم کے اعدادوشمار
 سرینگر//ریاست میں گزشتہ30برسوں کے دوران90ہزار ہلاکتوں کادعویٰ کرتے ہوئے بشری حقوق پا سداری کی مقامی جماعت انٹرنیشنل فورم فار جسٹس نے عبوری رپورٹ منظر عام پر لائی،جس میں کہا گیا ہے کہ3دہائیوں کے دوران ہوئیں ہلاکتیں اور 2008 ،2010 اور2016کی شہری ہلاکتیں اس میں شامل نہیں ہے۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس  نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کی تحقیقاتی ٹیم نے جو اعداد وشمار جمع کئے ہیں،اس کے مطابق1988سے لیکر24دسمبر 2017تک مجموعی طور پر88 ہزار 988 ہلاکتیں جموں کشمیر میں رونما ہوئیں،جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نامعلوم شہریوں، سیاسی کارکنوں،سرکاری بندوق برداروں،غیر ملکی عدم شناخت بندوق برداروں،فوجی و فورسز اعانت کاروں اور دیگر ایسے لوگوں کی ہیں،جن کی شناخت نہ ہو سکی۔فورم کے مطابق ان افراد کی تعداد44ہزار494ہیں۔ انسانی حقوق کارکن محمد احسن اونتو کی طرف سے منظر عام پر لائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مدت میں47ہزار334متشددانہ واقعات رونما ہوئے،جن میں23ہزار343 وہ عسکریت پسند بھی شامل ہیں،جن کی شناخت ہوئی،جبکہ اعداد وشمار کے مطابق6ہزار352فورسز،فوجی اور پولیس اہلکار بھی لقمہ اجل بن گئے۔ فورم نے دعویٰ کیا ہے کہ30برسوں کی مدت میں شناخت شدہ مہلوک عام شہریوں کی تعداد14ہزار795ہیں۔ عبوری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ1988میں جہاں ایک  فورسز اہلکار اور ایک جنگجو جاں بحق ہوا وہیں29 شہری بھی لقمہ اجل بن گئے،جبکہ2017میں ان کی تعداد بڑھ گئی اور سال بھر214جنگجو اور78اہلکار ہلاک ہوئے،وہیں57شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق2001میں سب سے زیادہ2850عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا جبکہ اس سال590فورسز اور فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے اور سال بھر1067عام شہری بھی لقمہ اجل بن گئے،جبکہ4ہزار507عدم شناخت لوگ ،جن میں سیاسی کارکن،سرکاری بندوق بردار اور عدم شناخت پاکستانی جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ عبوری رپورٹ میں2012کو گزشتہ30برسوں کے دوران سب سے کم شہری ہلاکتوں کا سال قرار دیا گیا ہے،جس میں صرف16 شہری ہلاکتیں ہوئیں،جبکہ سال میں17فورسز اہلکار اور84 جنگجو بھی لقمہ اجل بن گئے،جبکہ نامعلوم مہلوک افراد کی تعداد117تھی۔سال2000میں فورسز اور فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہونے کا دعویٰ کیا گیا،جس کے دوران636اہلکار ہلاک ہوئے،جبکہ1890عسکریت پسندوں کے علاوہ842عام شہری بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares