Home > Lifestyle > دماغی صحت کے لیے 6 بہترین غذائیں

دماغی صحت کے لیے 6 بہترین غذائیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہم ہمیشہ ہی دل کی صحت کی بات کرتے یا سنتے ہیں مگر دماغی صحت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ہمارے دماغ کو بھی بہت زیادہ توجہ اور درست غذا کے ذریعے اس کی صحت کا خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ واضح طور پر سوچنے، توجہ مرکوز کرنے، توانائی اور ہرممکن حد تک بہتر کام کرنے کے قابل ہوسکے۔اس دور میں جب دنیا بھر میں دماغی امراض جیسے الزائمر اورڈیمینشیا کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے تو ہمیں نوجوانی سے ہی دماغ کے لیے صحت مند غذاﺅں کے انتخاب پر غور کرنا چاہیے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ دماغ کے لیے کیسی غذا بہترین ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو درج ذیل میں دی گئی غذاﺅں کا استعمال بڑھا کر آپ دماغی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔ سبز سبزیاں مجموعی صحت کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوتی ہیں، ان میں اینٹی آکسائیڈنٹس، فائبر، لاتعداد وٹامنز اور نیوٹریشنز سمیت دیگر فائدہ مند اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ ایسی سبزیوں میں آپ کے پاس انتخاب کے لیے پالک، ساگ اور ایسی ہی دیگر سبزیاں موجود ہیں۔ ضروری نہیں کہ روز انہیں کھایا جائے تاہم ہفتے میں ایک بار ضرور آپ کی غذا میں انہیں شامل ہونا چاہیے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دماغی صحت اور طاقت بڑھانے کے لیے قدرت کی جانب سے دیئے جانے والے بہترین اجزاء میں سے ایک ہے۔ اگر آپ ہر عمر میں اپنے دماغی افعال کو بہترین رکھنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی غذا کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی ایک قسم ڈی ایچ اے یاداشت کو بہتر بنانے کے لیے بہت زیادہ ضروری ہوتی ہے اور اس کے لیے آپ کو مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہوتا ہے، جبکہ مچھلی کا تیل بھی ایک بہترین متبادل ثابت ہوتا ہے۔ ہفتے میں دو بار ڈی ایچ اے کا استعمال دماغی صحت کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔ اسٹرابری ہو یا بلیک بیری، بلیو بیری یا رس بیری، یہ سب اینتھوسیان اور دیگر فلیونوئڈز کے حصول کا اچھا ذریعہثابت ہوتے ہیں جو کہ صحت مند دماغ کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ پھل تازہ، منجمند یا خشک کسی بھی حالت میں استعمال کیا جائے یہ دماغی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ اخروٹ ایسا خشک میوہ ہے جسے روزانہ بھی استعمال کیا جائے تو کوئی برائی نہیں، اخروٹ نباتاتی اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، قدرتی فائٹو اسٹیرول اور اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اور یہ سب دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں۔روزانہ کچھ مقدار میں اس کا استعمال کرنا موٹاپے سمیت ذیابیطس اور دیگر امراض سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ کالے ہو یا سفید چنے میگنیشم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ میگنیشم دماغی خلیات کے ریسپیٹر کے لیے فائدہ مند جزو ہے جو پیغامات کی ترسیل کی رفتار بڑھاتے ہیں، جبکہ یہ خون کی شریانوں کو کھول کر دماغ تک خون کی زیادہ فراہمی میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یہ مصالحہ پاکستان بھر میں کھانوں کے لیےعام استعمال ہوتا ہے جو کہ سوجن سے تحفظ دینے والے اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتا ہے، ہلدی دماغ کو ایسے نقصان دہ اجزاء یا destructive beta amyloids کی سطح بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جو الزائمر امراض کا باعث بنتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ یاداشت میں بہترین اور نئے دماغی خلیات کی تشکیل میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares