Home > kashmir > آزادکشمیر کے میڈکل کالجزمیں انتظامی بحران نے شدت اختیار کر لی

آزادکشمیر کے میڈکل کالجزمیں انتظامی بحران نے شدت اختیار کر لی

مظفرآباد(کاشف میر،سٹیٹ ویوز)حکومت کی عدم دلچسپی اورمناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز کے مستقل پرنسپلز تعینات نہ ہونے سے انتظامی بحران شدت اختیار کرگیا   ینوں میڈیکل کالجز میں داخلوں کی آخری تاریخ 15 دسمبر بھی گزر گئی جبکہ ان داخلوں کو حتمی شکل دینے کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے جوائینٹ چیئر مین و پرنسپل پونچھ میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر ضیاءالرحمان گزشتہ ہفتے ملازمت چھوڑ گئے، محکمہ صحت سیکرٹریٹ نے ڈاکٹر ضیاءالرحمان کو نئے پرنسپل کی تعیناتی تک توسیع دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے لیکن سابق پرنسپل مختصر مدت کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر راضی نہ ہوسکے۔ مظفرآباد ، پونچھ اور میرپور میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم و نئے آنے والے طلباءکا مستقبل داﺅ پر لگ گیا،راولاکوٹ کی طرح مظفرآباد اور میرپور کے میڈیکل کالجز میں بھی جونیئر سٹاف سے قائم مقام پرنسپل حضرات چارج سنبھالے ہوئے ہیں، مظفرآباد میڈیکل کالج میں پشاور سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جمشید علی 9 ماہ تک 4 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ سمیت دیگر ڈھائی لاکھ روپے کی مراعات لیتے رہے ، پی ایم ڈی سی نے ان کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا توجمشید علی پرنسپل کا عہدہ چھوڑ کر چلے گئے۔ پونچھ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ضیاءالرحمان بھی 5 سال پرنسپل شپ کے بعد گزشتہ ہفتے مدت کنٹریکٹ ملازمت مکمل کرنے کے بعد عہدے سے الگ ہو گئے تھے ، میرپور میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر آفتاب ترابی بھی ایک ماہ تک عہدہ سنبھالنے کے بعد رخصت ہو ئے ۔پرنسپل حضرات کے غیر مقامی ہونے اورغیر پیشہ ورانہ انداز سے آنیوں جانیوں کی وجہ سے تینوں میڈیکل کالجز کا انتظامی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 2012 ءمیں بینظیر بھٹوشہید میڈیکل کالج( میرپور میڈیکل کالج )قائم کیا گیا جس میں 500 کے قریب طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہوتے ہیں ،ڈاکٹر میاں عبدالرشید اس کے پرنسپل تعینات ہوئے تو چار سال تک وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد رخصت ہوئے ، ان کے بعد پروفیسرآفتاب ترابی کو پرنسپل بنایا گیا تو وہ ایک ماہ سے زائد عرصہ ذمہ داریاں نہ نبھا سکے، پروفیسر آفتاب ترابی کے بعد حکومت نے پروفیسر برگیڈیئر (ر)پروفیسرشوکت کو قائم مقام پرنسپل کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔ آزادجموں کشمیر میڈیکل کالج ( مظفرآباد میڈیکل کالج) کی بنیاد بھی سال 2012 ءمیں رکھی گئی تو پروفیسر ظہیر عباسی کو پرنسپل تعینات کیا گیا جبکہ پروفیسر احمد خان کو ڈین بنایا گیا۔ مظفرآباد میڈیکل کالج میں بھی 500 طلباءزیر تعلیم ہوتے ہیں،گزشتہ سال مظفرآبادمیڈیکل کالج میں پروفیسر جمشید علی کو پرنسپل تعینات کیا گیا جن کوماہانہ 4 لاکھ 25ہزار روپے سمیت ڈھائی لاکھ روپے کی اضافی مراعات دی جاتی رہیں، پروفیسر جمشید کی تعیناتی کے خلاف عدالت میں مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر پروفیسر نے کیس دائر کیا، عدالت کے حکم پرپروفیسر جمشید کی ڈگریوں کو پی ایم ڈی سی سے تصدیق کیلئے بھجوایا گیا تو پی ایم ڈی سی نے پرنسپل جمشید کی ڈ گریوں کو جعلی قرار دیا۔پروفیسر جمشید عہدہ چھوڑ کررخصت ہوئے،ان پر میڈیکل کالج میں غیر قانونی تقرریوں کے سنگین الزامات بھی لگتے رہے ہیں، اب مظفرآباد میڈیکل کالج میںچند ماہ سے پروفیسر سیر وش کو پرنسپل کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ 2013ءمیں قائم ہونے والے غازی ملت سردار ابراہیم خان میڈیکل کالج کا نام دیا گیا ہے، پونچھ میڈیکل کالج کے بانی پرنسپل ڈاکٹر ضیاءالرحمان کو2012 ءمیں ہی چار سال کے کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا تھا ، بعد میں ان کو مزید ایک سال کی توسیع دی گئی تھی،جو گزشتہ ہفتے مکمل ہوئی،ڈاکٹر ضیاءالرحمان کو حکومت نے کچھ عرصہ قبل تینوں میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے کمیٹی میں شامل کر کے چیئرمین کمیٹی تعینات کیاتھا، اب داخلوں کیلئے امتحانات لینے کا سلسلہ جاری ہے لیکن ڈاکٹر ضیاءالرحمان اچانک پرنسپل شپ کے عہدے سے الگ ہو کر رخصت ہو گئے جبکہ ان کے پاس چیئرمین داخلہ کمیٹی کا چارج بھی تھا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق تینوں میڈیکل کالجز اور ان میں زیر تعلیم طلباءکا مستقبل حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے خطرے میں پڑ چکا ہے، 5 سال بعد بھی ان میڈیکل کالجز کو اپنے پاوں پر کھڑا نہیں کیا جا سکا ہے ، جبکہ ان کالجز کو بنیادی سہولیات سے محروم جا رہا ہے، ایسے میں ان کالجز سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرز کی قابلیت بھی مشکوک ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق آزادکشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے میڈیکل کے سینئر پروفیسر حضرات کو ان کالجز کے پرنسپل کے عہدوں کے حصول میں مقامی بیوروکریسی رکاوٹ بنی ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے مختلف صوبوں سے آنے والے پرنسپل صاحبان کی آزادکشمیر کے ان تعلیمی اداروں سے دلچسپی بھی کم ہوتی ہے اور ان کو جب کہیں اور سے بہتر آفر ہو جائے تو یہ شارٹ نوٹس پر رخصت ہو جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز میں عمومی طور پر ان پرنسپل حضرات کو لایا جاتا ہے جن کو پنجاب ، سندھ ، خیبر پختونخواہ یا اسلام آباد میں قبول نہ کیا جاسکا ہو۔ دوسری طرف ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ پنجاب یا خیبر پختونخواہ میں قائم میڈیکل کالجز میں پرنسپل و سینئر سٹاف کو بھاری تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں اس لیے قابل انتظامی و فیکلٹی کے لوگ آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز میں خدمات دینے کیلئے راضی نہیں ہوتے۔سیکرٹری صحت آزادکشمیر میجر جنرل خالد نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پونچھ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ضیاءالرحمان کی مدت ملازمت میں محدود عرسے کیلئے توسیع کی گئی ہے تا کہ وہ امتحانی مرحلے کو مکمل کرسکیں ، جیسے ہی پونچھ میڈیکل کالج کے نئے پرنسپل کی تعیناتی ہو گی وہ اپنا عہدہ چھوڑ جائیں گے،سیکرٹری صحت کے مطابق میرپور میڈیکل کالج کیلئے نئے پرنسپل کی تعیناتی کیلئے انٹرویو کچھ دنوں میں کر لیے جائیں گے جبکہ مظفرآباد میڈیکل کالج کے پرنسپل کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ دوسری طرف ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ چیئرمین جوائینٹ امتحانات و سابق پرنسپل پونچھ میڈیکل کالج نے خیبر پختوانخواہ کے ایک میڈیکل کالج میں پرنسپل کا چارج بھی لے لیا ہے اور وہ محدود مدت کیلئے دوبارہ ذمہ داریاں نبھانے سے انکار ی ہیں۔ادھر ذرایع کا کہنا ہے کہ پونچھ میڈیکل کالج کے طلباء نے امتحانات کی نتائج جاری نہ کرنے پر عدالت عالیہ میں رٹ دائر کردی ہے، جس پر عدالت نے کیس دائر کرنے سے قبل فریقین کو سماعت کیلئے 20 دسمبر کو طلب کیا ہے.

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares