Home > kashmir > بااثرطبقہ کشمیری مہاجرین کے 6فیصد کوٹے پر قابض

بااثرطبقہ کشمیری مہاجرین کے 6فیصد کوٹے پر قابض

آزادکشمیر کے حکمرانوں کی بار بار یقین دہانی کام آئی نہ ہی موجودہ وزیراعظم کے وعدے وفا ہوئے. مقبوضہ کشمیر سے 1990 کے بعد آنیوالے مہاجرین کے چھ فیصد کوٹہ پر بااثر مافیا کا راج بدستور قائم ہے. کوٹہ کے مغائر درجنوں افراد کو نواز کر اصل حقداروں کی مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا.ریفیوجی یوتھ فیڈریشن نے مہاجرین کی حق تلفی کا سلسلہ بند کروانے کا مطالبہ کردیا۔ریفیوجی یوتھ فیڈریشن کے صدر محمد صدیق داؤد اور جنرل سیکرٹری راجہ بشارت اظہار خان نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مہاجرین 1990 ء مابعد آنیوالے مہاجرین کے حقوق پر چند افراد نے ڈاکہ مارر کھا ہے ، محکمہ سروسز نے چھ فیصد کوٹہ 1989 ء کے بعد آنیوالے مہاجرین کیلئے مختص کیا تھا مگر بعض افراد کئی سالوں سے اس کوٹہ پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے تمام محکمہ جات سے مطالبہ کیا ہے کہ حصول ملازمت کیلئے آنیوالے امیدواروں کے کاغذات کی خوب چھان بین کی جائے اور ان کے مہاجر کارڈ چیک کیئے جائیں اور باضابط محکمہ بحالیات سے تصدیق لی جائے کہ یہ لوگ 1990 کے بعد کے ہیں یا کہ پہلے کے۔انہوں نے کہا کہ 24-1-2001محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ حصول ملازمت اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کیلئے کوٹہ 1/4مختص ہے جس میں مہاجرین مقیم پاکستان کیلئے 19صد جبکہ 1989ء کے بعد آنیوالے مہاجرین کیلئے 6 فیصد ہے

29نومبر 2002 کو بورڈ آف ریونیو نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں صدر آزادکشمیر وقت نے حسب فیصلہ کابینہ نعقدہ اجلاس 1-11-2002 مہاجرین آمدہ جموں و کشمیر دوران سال 1984-88 کی بابت پالیسی فیصلہ کابینہ 18-9-91پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہ منظوری دی ہے کہ ’’کابینہ نے معاملہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد اپنے سابقہ محررہ 18-9-91 میں اس حد تک نظر ثانی کی کہ مقبوضہ کشمیر سے آنیوالے تمام مہاجرین کی رجسٹریشن کا سلسلہ برقرار رہے گا تاہم گزارہ الاؤنس صرف 1990کے بعد آنیوالے مہاجرین کو دیا جائیگاجس کے بعد کمال مہارت سے بعض لوگوں نے مہاجر کارڈ سے گزارہ الاؤنس جاری کروا لیا اور اسی مہاجر کارڈ کو بطور ملازمت کیلئے پیش کیا جانے لگا ہے۔ ان لوگوں کے کارڈ پر مہاجر1985 لکھا گیا ہے اور1990 کے بعد کے آنیوالے مہاجرین کے کارڈ پر 1990 لکھا جاتا ہے اس کے باوجود ملازمتوں کے کوٹہ پر نہ صرف درخواست جمع کرواتے ہیں بلکہ درجنوں افراد ملازمت بھی اختیار کیئے ہوئے ہیں جو مہاجرین 1990 کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مہاجرین جموں وکشمیر 1990 کا مطالبہ ہے کہ ایسے عناصر جو دوہری مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں ان کی چھان بین کی جائے تاکہ مہاجرین 1990کی حق تلفی نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً38ہزار مہاجرین مختلف خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر ہیں اور اللہ کے فضل و کرم سے 90 فیصد نوجوان پڑھے لکھے ہیں ۔ جن میں ماسٹر ڈگری ہولڈر20 فیصد40 فیصد گریجویٹ جبکہ 30 فیصد میٹرک اور ایف اے کے ہیں لیکن حصول ملازمت کیلئے ان کی درخواست اس لیئے منسوخ ہو جاتی ہے کہ ان کے کوٹہ پر وہی بااثر لوگ قابض ہو جاتے ہیں جن کا تعلق 1989 ء سے پہلے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مہاجر کارڈ پر یہ بات واضح ہے کہ وہ 1985 کے ہیں تو پھر ان کو کیونکر محکمہ جات درخواست وصول اور ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ریاست، وزیراعظم آزادکشمیر اور چیف سیکرٹری ، سینئر ممبر برڈ آف ریونیو اس کا نوٹس لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیں اور شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں جس کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں وہ لوگ ہیں جو ان کے حقوق پر قابض ہیں، ایسے مافیا کی حوصلہ شکنی کی جائے اور نوسر بازی اور ناانصافی کے مقدمات درج کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

 

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares