Home > Articles / Column > عام انتخابات ڈانواں ڈول ، حکومت کا جانا ٹھہر گیا ؟

عام انتخابات ڈانواں ڈول ، حکومت کا جانا ٹھہر گیا ؟

تحریر :  ظفر مغل میرپور

ٓآئین پاکستان کے تحت مسلم لیگ ن کی  حکومت کے پاکستان میں آئینی مدت کے آخری سال کا تقریباََ نصف گزرنے پر آئندہ اگست 2018ء کے عام انتخابات کے لیے پاکستان الیکشن کمیشن نے گذشتہ ایک سال سے جمہوریت کے تسلسل کو آگے بڑھانے کے لیے انتخابی تیاریوں کا آغاز کر رکھاہے۔ لیکن پاکستان میں نواز حکومت کے چار سالوں میں چار دھرنوں باعث حکومت اور ریاست بے بس ہی نظر آئی ہے۔جبکہ کرپشن کی نت نئی ، عجب و غضب کہانیوں کا سلسلہ بام عروج پر رہااور اعلیٰ عدالتوں میں بھی کرپشن کہانیوں کی باز گشت پوری شد ومد سے سنائی دیتی رہی اور ملک بھر میں بھی کرپشن کی عجب کہانیاں زبان زد عام ہیں اور ماسوائے حکومتی اور اتحادی جماعتوں نے بھی پارلیمنٹ اور میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پر اپنا کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جس کا حکمران اور نواز شریف کی سر براہی میں حکومت کا دفاع کرنے میں کافی حد تک باوجوہ ناکام ہی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈان لیکس پر پاک فوج کو بد نام کرنے کی پاداش میں حکومت نے وقتی طور پر حکومت کی بجائے محض وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنا کر نواز حکومت کو بچانے میں جز وقتی کامیابی کے شادیانے بجا لیے مگر پانامہ کے ہنگامہ میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ سے بالآخر نواز شریف کو بھی ’’کوچہ اقتدار سے بڑے بے آبرو ہو کر رخصت ہونا پڑا ۔ ‘‘ابھی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی سیاہی خشک اور ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘  کی رٹ کی باز گشت مدہم نہ ہوئی تھی کہ الیکشن کمیشن کے حلف نامہ میں ختم نبوت ﷺ کی تبدیلی کا’’ پنگا‘‘ نااہل وزیر اعظم کی پیروکار حکومت کو بہت مہنگا پڑا اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو بھی علماء کرام کا 22روزہ دھرنا لے ڈوبااور ان کے دل کے ارمان بھی آنسوئوں میں بہہ گئے ۔ لیبک یارسول ﷺ کے علماء کرام کا دھرنا ختم کرانے میں پاک فوج کے سپہ سالار قمر جاوید باوجوہ نے جس حکمت عملی و تدبر سے پاکستان کے گلی کوچوں کے ہر گھر میں خانہ جنگی کی سی کیفیت سے نجات دلائی اور پھر نااہل حکمران ٹولے کی پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف چوکوں چوراہوں اور عام جلسوں میں ہرزہ سرائی کی پالیسی اور پاکستا ن کے جمہوری سسٹم کو’’ ڈی ریل ‘‘کرنے کے لیے اندرون خانہ جو حکمت عملی اپناء رکھی ہے۔ اس سے جمہوریت کا تسلسل ’’ڈانواں ڈول ‘‘ دیکھائی دے رہا ہے۔ اور بروقت انتخابات مشکوک ہو رہ گئے ہیں۔گو کہ آئین کے آرٹیکل 218کی سب سیکشن 3کی منشاء کے مطابق پاکستان میں صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن نااہل حکمران سازش کے تحت جمہوری تسلسل کو آگے بڑھانے کے بجائے اپنی حکومت کو طوالت دینے کی خاطر مردم شماری کو عبوری دور سے نکال کرحتمی مراحل سے گزارنے سے کترا رہی ہے ۔ اور محض سینٹ کے انتخابات میں اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر اپنے سینیٹر منتخب کرانے کے چکر میں ہے۔ جبکہ سینٹ میں 24ویں آئینی ترامیم کی منظوری نہ ہو نے کی تلوار لٹکا کر عام انتخابات کو مئوخر کرنے کے درپے ہے اور 1998ء کی مردم شماری پر ہی یا عبوری مردم شماری پر انتخابات کے اعلان سے کسی بھی  شہری کے سپریم کورٹ میں رجوع سے انتخابات کامعاملہ لٹک جانے کے امکانات واضح ہیں۔ نئی مردم شماری جو کہ 2008ء میں ہونی چاہیے تھی وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم پر فوج کے تعاون سے کی گئی ۔اور اس عبوری مردم شماری پر بھی دو بڑی پارلیمانی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو اعتراض ہے کیوں کہ عبوری اورحتمی مردم شماری میں واضح تغاوت موجود ہے اس لیے رواں ماہ دسمبر میں سینٹ میں زیر التواء 24ویں آئینی ترمیم کی عدم منظوری سے اگست 2018ء کے انتخابات  پر’’ خطرات کے بادل منڈلانے ‘‘لگے ہیں اور الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مردم شماری کی حتمی منظوری کے بعد عام انتخابات کے انتظامات کے لیے ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ اس صورت حال سے یہ بات اظہر من الشمس سے ہے کہ نااہل نواز شریف کی پیروکار حکومت بھی نااہل ہے۔ اور چیئر مین سینٹ رضا ربانی بھی اس صورت حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی سستی قرار دے کر واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیںکہ’’ اس کی ذمہ دار پارلیمان ہو گی اور تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ ‘‘دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری پی پی پی کی گولڈن جبلی پر اپنے بیان میں بروقت عام انتخابات کی حمایت کرتے ہوئے برملا پیغام دے چکے ہیں ۔ ’’ جمہوریت کو چلنے دیں ، نوجوانوں کے ساتھ کھیل مت کھیلو اور ہمیں غیر آئینی اقدامات قبول نہیں ہیں ۔‘‘ اس صورتحال سے جبکہ  پاکستان میں معیشت کا ’’بھٹہ ‘‘ بیٹھ جانے سے گارڈ فادر نواز شریف جمہوری سسٹم کے لیے زہر قاتل بن چکے ہیں ۔ جس سے سیاسی مبصرین ،سنجیدہ فکر اور صائب الرائے حلقوں کا خیال ہے کہ نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی نااہل حکمرانوں کا ’’جانا ٹھہر گیا ہے۔‘‘ اوٹیکنوکریٹ پر مشتمل قومی طویل المدتی عبوری حکومت کے قیام کے امکانات دن بدن روشن ہوتے جا رہے ہیں ۔ جو ملک میں بلاتخصیص  کڑے احتساب کے لیے ٹھوس عملی اقدامات اٹھا کر نہ صرف آزاد اور خودمختار عدلیہ کے وقار میں اضافہ کے لیے اقدامات اٹھائے بلکہ پاک فوج کو بلا جواز بد نام کرنے والوں کا عملی محاسبہ بھی کرکے اس کی عزت وقار میں بھی اضافہ کے لیے ٹھوس حکمت عملی کے تحت کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام اور دہشتگری سے پاک پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کرنے کے لیے آگے بڑھ سکے ۔ جس میں عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو اور وہ دنیا کی ترقی کی دوڑ میں خوشی سے شامل ہو کر اپنا اور ملک و قوم کا نام دنیا میں روشن کر سکیں ۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares