Home > Articles / Column > ﷲ کریم نے زمین پر بسنے والی مخلوق میں صرف انسان کو یہ فضیلت دی کہ وہ علوم کو قلم کے ذریعے منتقل کرسکتا ہے (سورۃ العلق)تحریر۔ مولاناامیر محمد اکرم اعوان

ﷲ کریم نے زمین پر بسنے والی مخلوق میں صرف انسان کو یہ فضیلت دی کہ وہ علوم کو قلم کے ذریعے منتقل کرسکتا ہے (سورۃ العلق)تحریر۔ مولاناامیر محمد اکرم اعوان

(عَلَّمَ بِالْقَلَم)
تحریر۔ مولاناامیر محمد اکرم اعوان 
اﷲ کریم نے زمین پر بسنے والی مخلوق میں صرف انسان کو یہ فضیلت دی کہ وہ علوم کو قلم کے ذریعے منتقل کرسکتا ہے (سورۃ العلق :۴) ہم قلم سے ٹنڈے گھیرے خاکے بناتے رہتے ہیں انسان کو ایسا شعور ایسی عقل عطا کردی کہ وہ ان ٹنڈوں گھیروں کو مختلف آوازوں ، زبان کی حرکات اور علوم کی شناخت کے ساتھ حروف مقرر کر لیے کہ یہ لکیر ایسے ہو گی تو اسے’’ الف ‘‘کہا جائے گا اسے ایسے کردیں گے تو ’’ب ‘‘ ہو جائے گی نقطے اتنے بڑھا دیں گے تو ’’پ ‘‘ ہو جائے گی ،ہے تو وہی لکیر ہی ایسے کردیں گے تو یہ’’ ج‘‘ کی آواز دے گی ہر زبان میں، ایسے کریں گے انڈہ سا ہو گا اس طرح کر دو توA ہو جائے گا دو بنا دو اوپر نیچے خانے توB ہو جائے گی اس انڈے میں تھوڑا سا راستہ رکھ دو توC ہو جائے گی اس انڈے کے ساتھ ٹنڈابڑھا دو تو D ہو جائے گی اب ان کو جوڑوتو الفاظ بنیں گے وہ جو آپ کی زبان بن جائے گی جو آپ جانتے ہیں وہ دوسرے کوسنانا چاہتے ہیں وہ ٹنڈے گھیرے مقصد تو نہیں ہوتا مقصد تو وہ بات ہوتی ہے جو ان کے طفیل آگے پہچانی ہوتی ہے ایک آدمی ایک جملہ لکھتا ہے کہ مجھے ضرورت ہے میں پیاسا ہوں ایک گلاس پانی لا دیجیے آپ اسے سارا دن حفظ کرتے رہیں اس کا کیا حاصل؟ آپ وہ ٹنڈے گھیرے لکیریں دیکھتے ہیں آپ جاتے ہیں پانی کا گلاس لے آتے ہیں مقصد پورا ہوگیا تو مقصد وہ حروف الفاظ ٹنڈے گھیرے تو نہیں تھے مقصد تو وہ بات تھی جو آپ تک پہنچائی گئی اسی لیے علمائے حق فرماتے ہیں نا کہ یہ کاغذ یہ سیاہی یہ حروف یہ قرآن نہیں ہے ان میں جو مفہوم مقید ہے وہ قرآن ہے ورنہ تو آپ ساری عربی زبان میں جو دنیاوی باتیں کرتے ہیں وہ بھی انہی حروف تہجی سے لکھتے ہیں کسی کو بددعا دیتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں تو انہی حروف تہجی کو استعمال کرتے ہیں مراد الہٰی اس میں جومقید ہے وہ قرآن ہے تو فرمایاآپ کا پروردگاربے پناہ کریم ہے وہ رب وہ عطا کرنے والا وہ ایک قلم سے جس نے علوم کے خزانے منتقل کرنے کا ہنر دے دیایہ کتنا بڑا احسان ہے اس کا ہمارے ہاں تو ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ وہ فریب خوردہ شان جو بھلا ہو کہ ہمیں یہ ڈیڑھ دو سو سالہ انگریز کی غلامی تباہ کرگئی ہماری پانچ نسلیں اس کی نظر ہو گئیں اﷲ کے بندے جہاد کرتے رہے کوشش کرتے رہے محنت کرتے رہے اس بلا کو گلے سے اتارنے کی غلامی سے نکلنے کی اﷲان کی محنتیں قبول فرمائے انہیں اجر عظیم عطا فرمائے وہ بلا ٹلی اﷲ نے ٹالی لیکن ہمیں آزادی نصیب نہ ہو سکی ہم غلاموں کے غلام ہو گئے جاتے جاتے انگریز ہم پر ان لوگوں کو مسلط کر گئے جن کے نام تو ہمارے جیسے تھے لیکن ان کی سوچ فکر اور کام انگریز جیسے تھے اب پون صدی سے ہم انگریز کے غلام نہیں انگریز کے غلاموں کے غلام ہیں بجائے آزادی کے ایک درجہ ہم مزید نیچے چلے گئے ہمارا نہ تعلیمی نصاب اپنا ہے نہ انداز فکر اپنا ہے نہ ہم اپنی مرضی سے سوچ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں نہ حلال حرام میں تمیز کرسکتے ہیں نہ ہمارا نظام انصاف وہ ہے جو ہمیں اﷲ اور اﷲ کے رسول نےﷺ دیا نہ ہمارا نظام سیاست وہ ہے جو ہم چاہتے ہیں نہ ہمارا نظام تعلیم وہ ہے یہ کون سی آزادی ہے؟ ہم اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکے ہم من حیث القوم! جی بیٹا ایم اے کر کے بیٹھا ہے نوکری نہیں ملتی یعنی ہم نے لکھنے پڑھنے کو صرف نوکری کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انگریز ہمیں یہاں لے آیا تھا کہ پڑھنا محض پڑھنا نہ ہو صرف وہ پڑھو جو نوکری میں کام آتاہے قرآن پڑھنا چھوڑ دو اس کے لئے تو ملازمت نہیں ملتی تفسیریں مت پڑھو ان سے تونوکری نہیں ملتی اس کے مفاہیم و معانی پر محنت نہ کرو اس کے صرف ونحو مت سیکھو یہ حدیث اور اس کا ذخیرہ کیا کرو گے ؟یاد کر کے ملا بن جاؤ گے مردے نہلاتے رہو گے صاحب بنو افسر بنو وہ چیزیں سیکھو جن سے اچھی نوکری ملتی ہے اب یہ ہماری پکی بات ہے کہ پڑھنا صرف اس لیے ہے کہ نوکری ملے علم برائے علم کا جو تصور ہے وہ ہم سے انگریز نے ختم کردیا آدمی پی ایچ ڈی کر کے مزدوری بھی کرسکتا ہے پی ایچ ڈی کرکے اپنی دکان بھی چلا سکتا ہے پی ایچ ڈی کرکے اپنی کاشتکاری بھی کرسکتا ہے پی ایچ ڈی کرکے، ایم اے کرکے دیواریں بھی بنا سکتا ہے گھر بنانے کی مزدوری جو زندگی کے کام ہیں جو پیشہ سمجھ میںآئے وہ کرسکتا ہے ضروری نہیں کہ وہ ٹائی لگا کرصاحب بن جائے لیکن ہم تو صرف نوکری کے لئے پڑھتے ہیں نا پھر وہ علم تو نہیں ہے وہ تو حصول معاش کا ایک حیلہ ہے لہٰذا رٹا لگا کر جماعتیں پاس کر کے سرٹیفیکیٹ لے لیے جاتے ہیں اور لکھنا پڑھنا بندے کو آتا ہی نہیں نہ اسے سمجھ آتی ہے نہ شعور ہوتا ہے سند اس کے پاس ہوتی ہے تو ہمیں کیا خبر کہ علم کس بلا کا نام ہے؟
فرمایا تمہارا پروردگار وہ کریم ہے جس نے انسان کو بے پناہ علوم کے حصول کی استعداد بخشی پھر ایک قلم اور چند لکیروں کے ذریعے علم منتقل کرنے کا شعور بخشا ا ن وسائل علم اور ان ذرائع سے وہ ،وہ حقیقتیں انسان کو سمجھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا اگرخالق کائنات انسان کو یہ وسائل اور علوم کے ذرائع عطا نہ کرتا تو وہ ان علوم میں ترقی نہ کرپاتا وہ جو کبھی پیدل چلتا تھا اس نے گھوڑے کو مسخر کیا اس پر سواری سیکھی پھر اس نے موٹر بنائی ، ٹرین ایجاد کر لی پھر اس نے آج وہ جدت پیدا کر لی کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک پوراشہر فضا میں تیر رہا ہے مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہورہا ہے اور اﷲ کی عظمت یاد آتی ہے جب ہوائی جہاز میں چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پانچ سو بندہ بیٹھا ہے چائے چل رہی ہے کھا پی رہے ہیں گپ شپ ہو رہی ہے جیسے آپ بیٹھے تقریر سن رہے ہیں ویسا ہی ماحول ہے جیسے کوئی زمین پہ شہر میں بیٹھا ہے اور مہینوں کا سفرگھنٹوں میں طے کر کے پہنچ جاتے ہیں اگر یہ تعلیم وتعلم اور قلم کا تصور نکال دیں تو یہ ساری ترقی دھڑام سے گر جائے جس شخص نے کوئی بنیاد رکھی وہ مرجائے تو اس کی معلومات اس کے ساتھ قبر میں چلی گئیں دوسرا پھر شروع کرے گا یاتو پہلے تک پہنچے گا یا اس سے بھی پیچھے رہے گا ساری کوشش وہیں ہوتی رہے گی پہلوں نے اپنی معلومات قلم سے منضبط کی تواگلوں نے وہاں سے آگے شروع کیں اب اتنا بڑا اہتمام اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؟ کیایہ سارے علوم صرف بد ن کے لیے ہیں ؟ بدن تو انسان نہیں ہے زندہ ہوتا ہے توہر بدن کے ساتھ کچھ چیزیں ہوتی ہیں کوئی کہتا ہے یہ میرے والد ہیں کوئی کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے کوئی کہتا ہے یہ میرا بھائی ہے ہر بدن کی ایک شناخت ہوتی ہے جب وہ مر جاتا ہے تو صرف میت ، میت کوغسل دو میت کو جلدی دفن کرو میت کے کفن کا اہتمام کرو؟ یہ کو ئی نہیں کہتا بھائی جان کو غسل دو بھائی جان کا جنازہ پڑھو کیاکوئی کہتا ہے؟ جسم میں سے کیا نفی ہوگیا کہ سارے رشتے ہی چلے گئے ؟اس کا مطلب ہے کہ روح نکل جائے تو بدن چھلکا ہے اصل انسان روح ہے روح تھی تو باپ بھی تھا بھائی بھی تھا بیٹا بھی تھا رشتے بھی تھے ناطے بھی تھے اس لیے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب الانسان بولاجائے تو مراد روح ہوتی ہے یہ بد ن روح کی سواری ہے ایک آلہ ہے جس کو وہ استعمال کرکے اس دنیا میں اپنے دن پورے کر تا ہے بدن کے لیے اتنا اہتمام ہے تو روح جو اس سے اربوں گنا اعلیٰ ہے اس کے لئے کتنا اہتمام ہوگا؟
اس دنیا میں مخلوق کے لئے اﷲ کریم سے براہ راست رابطہ کرناممکن نہیں ہے اگر تجلیا ت باری سے پردے ہٹ جائیں حجابات ہٹ جائیں اورصرف اﷲ کی ذات اور اس کی تجلیات باقی رہیں تومخلوق جل کر ختم ہو جائے مخلوق برداشت نہیں کرسکتی اس کے لیے اﷲ تعالیٰ نے تخلیقی طور پر خاص وجود پیدا فرمائے جنہیں نبی ؑ کہا گیا نبی ؑ بھی انسان ہوتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد، ماں باپ سے پیدا ہوئے سوائے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آپ ؑ بغیر باپ کے صرف ما ں سے پیدا ہوئے حضرت آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے پیداہوئے باقی سارے ماں باپ سے پیدا ہوئے ،کھانا کھاتے ہیں، پانی پیتے ہیں، اسی ہوا ،گرمی ،سردی سب کچھ کی انبیاء ؑ کوضرورت ہوتی ہے لیکن ان میں ایک عجیب بات ہوتی ہے کلام باری سن لیتے ہیں سمجھ لیتے ہیں پا لیتے ہیں اﷲ سے بات کرلیتے ہیں اﷲ کی بات سن لیتے ہیں خالق اور مخلوق کے درمیان ہم کلامی کا سبب بن جاتے ہیں بندوں کی تو اﷲ خود سن لیتا ہے ہر بندہ اﷲ کی نہیں سن سکتا اﷲ کی بات نبی ؑ سنتا ہے اور بندے کو پہنچا دیتا ہے ہرنبی ؑ صادق اور امین ہوتا ہے یہ خصوصیات ہوتی ہیں نبوت کی اگر گناہ کا دھبہ لگ جائے توہم کلامی باری تعالیٰ کی استعداد ختم ہوجاتی ہے ایک ٹیلی فون کی تار کے ذریعے آپ بات کررہے ہیں اس تار پر درمیان میں چھوٹی سی چیز ویلڈ کردیں تو وہ تارٹوٹے گی تو نہیں لیکن اِدھر کی آواز اِدھراور اُدھر کی آواز اُدھررہ جائے گی بات نہیں ہوسکے گی جو تعلق بااﷲ نبی ؑ کا ہوتا ہے اس میں گناہ کی چھوٹی سی ویلڈنگ بھی ہوجائے تو اﷲ کریم سے بات نہیں ہو سکے گی اس لئے نبی ؑ تخلیقی طور پر معصوم ہوتے ہیں یعنی ان سے گناہ کا صدور ممکن ہی نہیں ہوتا غیر نبی کوئی معصوم نہیں ہوتا اس لیے اﷲ کے نبی ؑ کے علاوہ کوئی اس دنیا میں اﷲ کی بات نہیں سن سکتا یہ شرط اس دنیا کے لیے ہے کہ یہ دار ابتلاء ہے آزمائش کا جہان ہے جب یہ دنیا ختم ہو گی اُس دنیا میں، برزخ میں ہر انسان کو طاقت دے دی جائے گی ہر مومن دیدارِ باری بھی کر سکے گا کلام باری بھی سن سکے گا کافر کفر کی وجہ سے محروم رہے گا نہ اﷲ کریم کا دیدار کر سکے گااور نہ ہی کلام الہٰی سن سکے گا کافر کی محرومی کا سبب اس کا کفر ہو گااﷲ کریم نے ایسے وجود تخلیق فرمائے کافر کہتے تھے ہمارے جیسا ہی بندہ ہے ہماری طرح کھاتا پیتا ہے ہمارے ساتھ گلیوں میں اٹھتا بیٹھتا، چلتا پھرتا ہے یہ کیسے نبی ؑ ہوگیا؟اوبے وقوفو! بظاہر تمارے ہی جیسا ہے لیکن وہ ہمیشہ حلال اور پاک کھاتا ہے تم رتب و یسب کھاتے ہو تم کہتے ہو ہماری طرح بولتا ہے جب کہ تم جھوٹ بھی بول لیتے ہو وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے تم کہتے ہو ہماری طرح سنتا ہے تم غلط بھی، صحیح بھی سنتے ہو وہ ہمیشہ سچ سنتا ہے تو یہ طرح تو نہ ہوئی بڑا فرق ہوا جس طرح قلم کو انتقال علم کا ذریعہ بنایا انبیاء ؑ کو ان علوم کے انتقال کا ذریعہ بنایا جو بدن کے لیے بھی ازحد ضروری تھے اور روح کے لیے بنیادی حیات کی حیثیت رکھتے تھے قلم نے تو ظاہری علوم سارے منتقل کر دیے مومن کافر کوئی فرق نہیں مومن بھی پڑھ سکتا ہے کافر بھی پڑھ سکتا ہے الفاظ وحروف یاد کرسکتا ہے۔
وہ لطافتیں وہ نزاکتیں جن کا تعلق ایمانیا ت سے ہے کیفیات سے ہے تجلیات سے ہے تعلقات باری سے ہے وہ پاکیزگی وہ طہارت جو ایمان اور قلب میں شرط ٹھہریں وہ نبی ؑ کو عطا کیں جسے نور ایمان نصیب ہوا اس میں وہ لطافت اتنی آجاتی ہے کہ وہ برکات نبی ؑ سے قبول کر سکے یہ فرق ہے امتی اور نبی ؑ کا ،امتی ،نبی ؑ جیسا نہیں ہو سکتا نبی ؑ امتی کی طرح نہیں ہوتا کیا فرق ہے؟ یہ نزاکت کا، لطافت کا فرق ہے بظاہر جسم ایک جیسا ہوتا ہے، ہاتھ پاؤں ایک جیسے ہوتے ہیں، آنکھ ناک کان ایک جیسے ہوتی ہے، لبا س وجود ایک جیسا ہوتا ہے لیکن بڑے فاصلے ہیں نبی ؑ ، نبی ؑ ہوتا ہے امتی ،امتی ہوتا ہے نبی ازل سے تخلیق کئے گئے اس انداز سے اس (Material ) سے اس مادے سے اس لطافت سے اس نزاکت سے ایک ہی طرح کے انسان ہوتے ہیں نبی ؑ کی لطافتوں ،نزاکتوں اور پاکیزگی کا فرق بہت زیادہ ہے نبی ؑ ، نبی ؑ ہوتاہے وہ کلام باری سنتا ہے صرف کلام ہی نہیں اس کلام کے ساتھ کیفیات بھی ہوتی ہیںآپ کسی سے ناراض ہوتے ہیں غصے ہو کر کچھ لفظ کہتے ہیں تو کیا صرف لفظ ہوتے ہیں؟ نہیں، ایک غصے کی کیفیت بھی ساتھ ہوتی ہے دوسرا محسوس کرتا ہے کہ مجھ پر ناراض ہواہے میری بے عزتی ہوئی ہے یا مجھے جھڑکا گیا ہے آپ خوش ہوتے ہیں کسی کوشاباش دیتے ہیں تو کیا صرف لفظ ہوتے ہیں؟ نہیں الفاظ تو اظہار کے لیے ہوتے ہیں اصل مراد تو وہ کیفیت ہوتی ہے جو آپ کے چہرے کی بشاشت ، مسکراہٹ اور خوشی کے ساتھ منتقل ہورہی ہے اسی طرح ہر متکلم کے کلام میں اس کی ذات کی کیفیت ہوتی ہے اﷲ کے کلام کی کیفیت کتنی ہوگی؟ آپ کسی پاگل سے غصے ہوتے رہیں یا مسکراتے رہیں کیا اسے کوئی فرق پڑتا ہے؟ اِسی طرح کلام الہٰی کا پاگل کو کوئی فرق نہیں پڑتا یہ لطافت انبیاء ؑ میں ہوتی ہے وہ کیفیات محسوس کرتے ہیں پھر جب وہ ارشادفرماتے ہیں تو مومن وہ کیفیات وصول کرتا ہے کافر کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کہتا ہے پتہ نہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتایہ ہم کیسے مان لیں کہ مردے زندہ ہوں گے؟ جسم مٹی کھا گئی کہتے ہیں دوبارہ زندہ ہوجائیں گے ماننے والی بات نہیں، ہم نہیں مانتے مومن جب سنتا ہے توگویا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہوتا ہے کہ مردے زندہ ہورہے ہیں جس طرح علوم ظاہری کے انتقال کا ظاہری ذریعہ بنایا علوم روحانی او ر قلبی کے انتقال کا ایک باطنی ذریعہ اور راستہ بنا یابارگاہ عالیﷺ سے انبیاء ؑ حاصل کرتے ہیں،انبیا ء ؑ سے صحابہ کرامؓ نے حاصل کیا،صحابہ کرامؓ سے اﷲ کے مقرب بندوں نے،علمائے حق نے ،اہل اﷲ نے اور اولیاء اﷲ نے حاصل کیااور وہ آگے ہم جیسوں پر تقسیم کرتے ہیں اب یہ ہماری قسمت ہمارانصیب ہمارا کردار ہے کہ ہم خود کو کتنا اس قابل بناتے ہیں کہ وہ بات ہماری سمجھ میں آئے و ہ آواز ہم تک آتی بھی ہے یا ہمارے گناہ اسے دور روک دیتے ہیں وہ لذت ،وہ کیفیت کیا ہوتی ہے؟ہارمونیم بجتاہے آپ کہتے ہیں مزا آ گیا طبلہ بجتا ہے آپ سر دھن رہے ہوتے ہیں ڈھول بجتا ہے اچھا بھلا بندہ کودنے لگ جاتا ہے بھئی کیا ہوجاتا ہے؟ ڈھم ڈھم ہی ہو رہی ہے نا کیا ہے ،ایک
بانسری بج رہی ہے ایک بندہ پھونک مار رہا ہے ٹو ٹو کی آواز اس میں کیا ہے؟ نہیں بھائی وہ دل کھینچ لیتی ہے کیوں ایساہوتا ہے؟ اس میں ایک ردھم ہے ایک صدا ہے ایک لےَ ہے ایک توازن ہے وہ توجہ سلب کرلیتی ہے اگر آپ کے ڈھول باجے تماشے میں لےَ ہے تو کیا یہ لے کلام الہٰی میں نہیں ہے؟ ارشادات باری میں نہیں ہے ؟ پھر جب وہ آواز قلب اطہر پیغمبرﷺ سے آگے منتقل ہوتی ہے توکیا ارشادات نبوی ﷺ میں نہیں ہے؟ سن کر آپ کو لذت نہیں آتی؟ آپ مست نہیں ہوتے؟ نہیں،یہ سب پرانی باتیں ہیں مولوی لگے رہتے ہیں چودہ سو سال پرانی بات لے کر بیٹھ جاتے ہیں ارے بانسری بجتی رہے سننے کے لیے کسی کے کان بند ہوں تو یہی کہتا ہے کہ اس نے کیا لکڑی سی لی ہوئی ہے اور ایسے ایسے کیوں کررہا ہے؟جب دل سیاہ ہو گئے گناہوں نے قوت سماعت چھین لی تو ہم مولوی کو ہی الزام دیں گے کہ یہ بے سری باتیں لے کر بیٹھا ہے بے تکی باتیں کررہا ہے اس آواز کو سننے کے لیے کان صاف کرو ،دل کوصاف کروعقیدے کو درست کرو غذا کو حلال کروکردار کو صحیح کرو پھر پتا چلے گا یار یہ مولوی نہیں کوئی اور بول رہاہے یہ بات ملا کی نہیں یہ رسول اﷲْ ﷺ کی ہے سورۃ العلق کی یہ پہلی پانچ آیات غار حرا میں پہلی پہلی وحی میں نازل ہوئیں اورکیا ارشاد ہورہا ہے؟ بات تعلیم وتعلم کی، حصول علم کی اور انتقال علم کی ہو رہی ہے معرفت حق کا دروزاہ بھی علم، عظمت پیغمبر سے شاناسائی کا دروازہ بھی علم اور علم جاننے کو کہتے ہیں کتابیں چاٹنا علم نہیں ہے امتحا ن دے کر سرٹیفیکیٹ لے لینا علم نہیں ہے جاننا علم ہے کتنے سکولوں میں پڑھا صحابہ کرامؓ نے؟ کتنی یونیورسٹیوں سے سرٹیفیکیٹ لیے ؟ کتنے مدارس میں گئے ؟کوئی خزانے علوم کے تھے جو نبی کریم ﷺ نے ان کے قلوب میں انڈیل دئیے وہ ،وہ حقیقیتں وہ جان گئے جو یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نہ جان سکے کتنے ایسے لوگ تھے جواونٹوں کے چرواہے تھے اﷲ کی عظمت سے ناآشنا صحراؤں کے باسی معاشرت اور معیشت کے آداب وقوانین سے آزاد معاشرے کے باغی انسان جب بارگارہ رسالتﷺ میں پہنچے نو ر ایمان سے سیراب ہوئے:
کیا نظر تھی جس نے مرُدوں کو مسیحا کردیا
خود نہ تھے جو راہ پر اورروں کے ہادی بن گئے 
جو کبھی خود مرے ہوئے تھے ان کی نگاہوں سے زندگی بٹنے لگی ،ہمارے ہاں الحمد اﷲ اب بھی جرنیل ہیں جرنیل بننے تک بندے کی بھنویں بھی سفید ہو جاتی ہیں جب وہ ملٹری اکیڈمی میں جاتا ہے تو ایک بچہ ہوتا ہے لیفٹینینٹ بن کر فوج میں جاتا ہے ساری عمر کورس کرتا رہتا ہے یہ کورس وہ کورس تب اس کی ترقی ہوتی ہے پھر غیر ملکی یونیورسٹیوں اور بین الاقوامی اداروں سے تربیت حاصل کر کے ہزاروں میں سے چندجا کر جرنیل بنتے ہیں باقی نیچے ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں اور جرنیل بننے تک ان کی بھنوؤں میں بھی سفید بال آ چکے ہوتے ہیں کتنے جرنیل ہیں جنہیں تاریخ نے یاد رکھا؟نہ کسی یونیورسٹی میں گئے نہ کسی ادارے میں گئے نہ کوئی فوجی تربیت لی اونٹوں کا گلا چھوڑ کر آئے بارگاہ رسالتﷺ میں ایک رات بسر کی صبح لشکر جارہا ہے فرمایا اس دستے کا جرنیل یہ ہوگا ساتھ جاؤتاریخ سے کہوکسی ایک جرنیل کا نام بھلا کر دکھائے کیا نظر تھی ؟وہ علم کیا تھا؟ کہ سارا فوجی علم بھی انہیں آ گیااور سارے کورس بھی طے ہو گئے علم جاننے کا نام ہے وہ خزانہ جو قلب اطہر رسول اﷲ ﷺسے ان کے دل میں منتقل ہواوہ علم تھا اور یہ جو باطنی اور روحانی علم ہے یہ ایسی عجیب نعمت ہے کہ جب یہ عطا ہوتی ہے تو ظاہری علوم از خود کھچے چلے آتے ہیں علم ظاہر میں یہ طاقت نہیں ہے کہ علم ظاہر ہوتو وہ علم باطن کو بھی ساتھ کھینچ کے لے آئے یہ اس میں طاقت نہیں ہے علم ظاہر سایہ ہے علم باطن اصل ہے اصل کے ساتھ سایہ چلتا ہے سایے کے ساتھ اصل نہیں چلتا جتنے لوگوں کو بھی کمالات باطنی نصیب ہونگے وہ دنیاوی اور ظاہری معاملات میں بھی زیادہ معاملہ فہم ہوں گے دنیا کا بڑے سے بڑا دانشور حقائق باطنی سے آشنا نہیں ہو سکتا جب تک ایمان نہ لائے اﷲ کریم نے انبیاء کو ذریعہ بنایا ان نازک ترین کیفیات کا جو تعلق بااﷲ پیدا کرتی ہیں محبت کامالک کے ساتھ مخلوق ہونے کا تعلق تو ہر ایک کا ہے لیکن ایک تعلق محبت کا فدا ہونے کافنا ہونے کاوہ اسلام ہے اسلام ان کیفیات کا نام ہے جو ان علوم کے ذریعے سمجھی سمجھائی جاتی ہیں اور محسوس تب ہوتی ہیں جب قلوب سے قلوب میں آتی ہیں ۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares