Home > Pakistan News > دفاعی خودانحصاری،پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کرلی،

دفاعی خودانحصاری،پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کرلی،

اسلام آ باد ( آ ئی این پی )سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کو وزات دفا عی پیداوار کے حکام نے آ گا ہ کیا ہے کہ ملک میں جدید اسلحہ کی تیاری کے حوالے سے پچیس سالہ ماسٹر پلان تشکیل دیا جا رہا ہے،دفاعی سامان کی کمرشل بنیادوں پر تیاری کا مقصد اپنے وسائل پیدا کرنا ہے تاکہ حکومت پر بوجھ کم ہو،امریکہ نے رات کو دیکھنے والے آلات چھ ماہ سے روکے ہوئے ہیں،رات کو دیکھنے والے آلات بارے امریکہ یقین چاہتا ہے کہ یہ دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں، سی پیک کو مد نظر

رکھتے ہوئے ایسے ٹرک بنا رہے ہیں جو سی پیک کی ضروریات پورا کریں۔منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کا اجلاس چئیرمین کمیٹی جنرل ر عبد القیوم کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کو پاک فضائیہ کی تیاریوں اور جنگی جہازوں کے پرزہ جات کی اندرونی ملک تیاری پر بریفنگ دی گئی۔وزارت دفاعی پیداوار نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ پاکستان فضائیہ کے لئے مرمت کی غرض سے اعلی کوالٹی کے پرزے تیار کررہا ہے ۔ہم اگلے پچیس سال کا ایک ماسٹر پلان بنا رہے ہیں۔پچیس سالہ ماسٹر پلان میں جدید اسلحہ کی ضرورت اور تیاری اور مرمت کے چارٹ کی تیاری شامل ہے ۔ چئیرمین کمیٹی سینیٹر جنرل ر عبد القیوم نے استفسار کیا کہ کیاایئر فورس کے رات کو لڑنے کے لئے کیا صلاحیت ہے جس پر وزارت دفاعی پیداوار کے حکام نے آ گاہ کیا کہ فضائیہ کے گراونڈ آپریشنز میں مختلف دوربینوں سے مدد کرتے ہیں۔پاک فضائیہ رات کو لڑنے کے لئے جو چیزیں ضرورت ہوتی ہے زیادہ تر وہ خود کررہی ہے۔پاک فضائیہ کے جنگی ہیلی کاپٹرز کو رات کو دیکھنے کے لئے اترتے اور چڑھتے وقت دوربینیں وزارت کی تیار کردہ ملتی ہیں۔چئیرمین کمیٹی دفاع و دفاعی پیداوار سینیٹر عبد القیوم نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ وزارت دفاعی پیداوار کمرشل بنیادوں پر کرنے کی خواہش اچھی بات ہے اس کی اجازت ہونی چاہئے۔وزارت دفاعی پیداوار کے حکام نے آ گاہ کیا کہ دفاعی سامان کی کمرشل بنیادوں پر تیاری کا مقصد اپنے وسائل پیدا کرنا ہے تاکہ حکومت پر بوجھ کم ہو۔جو دفاعی سامان ہم بناتے ہیں ان کی چیکنگ جی ایچ کیو کرتا ہے اس پر وقت لگتا ہے۔آلات حرب کی ایک مثال ایسی بھی ہے جس میں چیکنگ پر دوسال لگ گئے۔ترکی ہمارے ساتھ ملکر آلات حرب بنانا چاہتا ہے جی ایچ کیو کی منظوری کا انتظار ہے ۔امریکہ نے رات کو دیکھنے والے آلات چھ ماہ سے روکے ہوئے ہیں۔امریکہ رات کو دیکھنے والے آلات کا لائیسنس جاری کرتا ہے۔رات کو دیکھنے والے آلات بارے امریکہ یقین چاہتا ہے کہ یہ دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔رات کو دیکھنے والے آلات عام آدمی کو نہیں بیچے جاسکتے۔چئیرمین کمیٹی سینیٹر عبد القیوم نے سوال کیاکہ کیاوزارت دفاعی پیداوار فوجی جیپیں بنا رہی ہے ۔ابھی اپنی فوجی جیپیں بنانے کے لئے ابتدائی کام کررہے ہیں۔جس پر چئیرمین کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم جے ایف تھنڈر مشاق بنا رہے ہیں ستر سال سے فوجی جیپیں کیوں نہیں بنا رہے۔اگر ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے جاسوس طیارے ساب کو مرمت کرکے چلا سکتے ہیں تو جیپیں کیوں نہیں بنا سکتے۔چھوٹی جیپیں بنائیں جو مارکیٹ میں سستی اور معیاری ملیں ۔ وزارت دفاعی پیداوار کے حکام نے آ گاہ کیا کہ سی پیک کو دیکھتے ہوئے ایسے ٹرک بنا رہے ہیں جو سی پیک کی ضروریات پورا کریں۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares