Home > Overseas Kashmiri News > بابا پونچھ جناب خان محمد خان صاحب

بابا پونچھ جناب خان محمد خان صاحب

اج میں ایسی شخصیات پر لکھنے جارھا ھوں جو ازادکشمیر و پاکستان میں کیسی تعرف کی محتاج تو نہں مگر نئی نسل کو ان کی عظیم کاموں اور قربانیوں سے اگاہ کرنا بہت ضروری ھے کشمیر اور پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی این جی او جو قائم ھوی سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے نام سے وہ بابا پونچھ جناب خان محمد خان صاحب نے قائم کی پھر اس کے ساتھ ساتھ دارالعلوم تعلیم القرآن جو اج ازاد کشمیر و پاکستان کی معتبر جامعات میں شامل ھے قائم کی اور پورے کشمیر میں دورے کر کے لوگوں کو مدرسہ میں خیرات کرنے کی ترغیب دی چونکہ اس وقت بہت تنگ دستی تھی ھر کوی اس قابل نہں تھا کہ وہ روپے کی صورت میں یا کیسی اور مالی صورت میں چندہ دے تو جناب بابا پونچھ نے لوگوں کو اک مٹھی آٹا جمع کرو کی ترغیب دی اور ٹیمیں تشکیل کی کہ ھر جمیرات کو یہ ٹیم اس ایریا سے اور یہ ٹیم اس ایریا سے جمع شدہ آٹا اٹھا کر پلندری پہنچائیں اور پھر لوگ اس،وقت نسوار کھاتے تھے بابا پونچھ سے لوگوں نسوار ترک کرنے کا کہااپ کی بات میں اتنا اثر تھا کہ لوگوں نے اپنی جیبوں سے شیشے والی ڈبیاں نکال کر اس کے سامنے دور پھینک دی یہ بھی سہرا جناب خان محمد خان کو جاتا ھے میری والدہ فرمایا کرتی تھی کہ کھوڑی چنہ میں ھمارے مکان پر جناب خان صاحب کا جلسہ کہہ دیں یا میٹنگ بولیں ھوتی تھی اور لوگ کثیر تعداد میں تشریف لاتے تھے یہ محتصر سا تعرف تھا امید ھے پسند اے گا ان کے ساتھ ھی اک اور عظیم لیڈر و سپہ سالار جس نے کشمیریوں کو اک راہ اور مشل دی جس کی روشنی سے اج بھی ھم راستہ تلاش سکتے ھیں اور برطانیہ کی فوج میں بڑے بڑے کارنامہ سرانجام دے چکے تھے اب کے ارام کا وقت تھا مگر جب دیکھا کہ کشمیر میں ڈوگرا راج ھے ھماری قوم کو ازادی چاھیے تو اپنا سب کچھ ازادی کشمیر کے لیے لوٹا دیا میری مراد فاتح     کشمیر شھید کشمیر کیپٹن حسین خان نے اپنی متاع و مال راہ حق میں پیش کرکے حق ادا کیاتھا مگر ھم نے کیا کیا حسین خان وہ شھید اور مرد مجاھد تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ نچھاور کیا بہت کم لوگ ھوتے ھیں جو جان کے ساتھ مال بھی اللہ کی راہ میں بطور نزرانہ پیش کرتے ھیں یہ وہ خوش قسمت شھید ھیں جنہوں نے جان کے ساتھ مال بھی قربان کیا اور وہ مثال قائم کی جس پر تاقیامت قوم فخر کرے گی انہوں نے اپنا آج ھمارے کل کے لیے قربان کیا مگر ھم نے اپنا حق ادا نہں کیا ۔چاھیے تو یہ تھا کہ ھم اس بیس کپمپ کو استعمال کرکے باقی آزادی کی بات اور کوشش کرتے مگر ھم کرسی کے نشے میں سب بول گیے جس کے نتیجے میں کشمیر کی تقسیم در تقسیم کر دی گی وہ کبھی چین کو خوش کرنے کے لیے میرے پیارے وطن کو کاٹ  دیا جاتا ھے تو کبھی اک بڑھے حصے کو پاکستان کے حوالے کیا جاتا ھے جس سے نقصان یہ ھوا کہ گلگت بلتستان کے لوگ تحریک آزادی سے دور ھو گیے اور تاریخ سے بھی دور ھو گیے اج وہ اسی وجہ سے صوبہ بنانے کی باتیں کرتے ھیِں کشمیر کے آئین اور قانون کے خلاف لیکن ان کو پتہ تک نہں اج بھی ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم سب مل کر کیپٹن حسین خان اور ان کے ساتھ ھزاروں اور شہدا کی قربانیوں کو سامنے رکھ کرتحریک آزادی کو تیز کریں اور اس کا انتخاب کریں جو تحریک آزادی کو سمجھتا  ھو اس کا انتخاب کریں جس میں مال بنانے کا چسکا نہ ھو افسوس ھوتا ھے کہ اج یہ لوگ جو حکومت کرتے ھیں اور مال بناتے ھیں انہیں یہ نہں پتا کہ اگر کیپٹن حسین اور ان کے ساتھ ھزاروں شہدا اپنی جانوں کے نزرانے نہ دیتے تو شاید یہ اج کسی ھندو کے نوکر ھوتے اج یہ ان شہدا کے مشن کے ساتھ غداری کررھے ھیں میری گزارش تمام نوجوانوں سے کہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کریں ان کے مشن کو تیز کریں اورآزادکشمیر سے کرپٹ لوگوں کو نکال کر باھر پھنکیں حسین خان شھید نے اسلام کی سربلندی اور وطن کی آزادی کی خاطر قابل گلہ کو شھید گلہ کا زیور پہنایا اور کالا کوٹ کو حسین کوٹ کا نام دیا اج یہاں حکومت پاکستان نے بہت شہدا کو نشان حیدر دیا ھے اسی طرح مرد مجاھد شھید کشمیر فاتح آزادکشمیر کو بھی نشان حیدر سے نوازا جاے جو کوی احسان نہں ھوگا یہ ان کا حق بنتا ھے ائیں ھم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ھم حسین خان شھید اور اج تک تمام شہدا کے مشن کو جاری رکھیں گے اور کرپٹ اور سورۃ فاتحۃ سے ناواقف لوگوں کو منظر سے ھٹا کر دم لیں گے,شھید کشمیر نے تولی پیر کے نذدیک قابل گلہ کے مقام پر جام شھادت نوش کی اللہ تعالی ان کے اور ان کے ساتھ تمام شہدا کے درجات بلند فرمائیں امین یارب العلمیں     تحریر قاری محمد صادق حیات ترابی کھوڑی چنہ

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares