Home > Breaking News > بانی صدرآزادکشمیرکی وارث نےحکمرانوں کوکھری کھری سنادیں

بانی صدرآزادکشمیرکی وارث نےحکمرانوں کوکھری کھری سنادیں

اسلام آباد …..حکومت آزادکشمیرمظفرآب​اد میں جبکہ جموں وکشمیرپیپلز پارٹی آزادحکومت کا 70 واں یوم تاسیس 24اکتوبر کو جنجال ہل کےمقام پر منائےگی۔

جےکےپی پی کی سینئرنائب صدر نبیلہ ارشادایڈووکیٹ نے سٹیٹ ویوزکے ایڈیٹرسیدخالدگر​دیزی کیساتھ ایک نشست کے دوران کہا کہ1947 میں پلندری میں جنجال ہل کےمقام پرپہلا دارلحکومت قائم کیاگیاتھا۔

انقلابی حکومت کے بانی صدر غازی ملت سردارابراہیم خان مرحوم نے نےایک ٹینٹ میں بنچ پربیٹھ کرکام شروع کیاجسکےنتیجےمیں آج آزاد کشمیرکےضلع مظفرآبادمیں لگژری سیکریٹریٹ قائم ہے۔

بانی صدر کہتے تھے کہ وہ فائلوں پر سر رکھ کر سوتے اورصبح اٹھ کراسی بنچ پرکام شروع کردیتے تھے۔آج آزادکشمیر میں ادارے ہیں جو کل کچھ بھی نہ تھے۔

نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ٹینٹ اور بنچ سے جدوجہد شروع کی گئی۔دانشمندی سے پاکستان کیساتھ رشتہ قائم کیاگیا اوربرابری وعزت واحترام کی بنیاد پریہ رشتہ چلاگیا۔ایکٹ 70 بنایاگیاجس میں 74ًمیں ترامیم ہوئیں۔

آج ریاست میں حکمران کشمیر کاز پر بے دریغ خرچ کررہے ہیں اورپیسہ بنایا بھی جارہا ہےجوکہ عام لوگوں کیلئےاذیت ناک عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ رشتہ کمزور کردیاگیاہے۔براب​ری اور عزت واحترام کی بجائے نفرت یا چاپلوسی کی دو حدوں کو چھوا جارہا ہے۔

نبیلہ ارشاد کاکہنا ہے کہ کشمیریوں کو 24 اکتوبر کو جنجال ہل جانا چاہیئےاوردیکھنا​چاہیئےکہ 1947 میں کہاں سے جدوجہد کا آغاز کرکےآج کےمظفرآباد تک پہنچایاگیا۔

انہوں نے کہا کہ جےکےپی پی جنجال ہل میں یوم تاسیس منائے گی۔ہم لوگوں کی آنکھیں کھولیں گےتاکہ وہ دیکھ اور محسوس کرسکیں کہ جن لوگوں کو وہ کامیاب کرکے اسمبلی میں بھیجتے ہیں وہ کیاکرتے ہیں اورانہیں کرنا کیاچاہیئے۔

نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ ذات کی بات ہوتی تو غازی ملت اسوقت بیرسٹر تھے جب کم لوگ ہی پڑھے لکھے تھے۔وہ چاہتے توبڑی عمارات وگاڑیاں بناتے لیکن قیادت یہ ہوتی ہے جومثال بنتی ہے۔

نبیلہ ارشاد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آزادحکومت کا مینڈیٹ نہیں ھے کہ غیرملکی دورے کریں اورکشمیرکازکےنا​م پرسیرسپاٹے کرکے وقت اورپیسہ ضائع کریں۔بیس کیمپ کو تعمیروترقی اور فلاح وبہبود کے معاملے میں مضبوط کرنا حکومت کا کام ہے۔راجہ فاروق حیدرکےبحراوقیان​وس میں ویڈیو بنانے سے ہم متاثر نہیں ہوتے اورنہ ہی مسئلہ کشمیرپرفرق پڑتا ہے۔

نبیلہ ارشاد کاکہنا ہےکہ غیرملکی دوروں کو لیکر قانون سازاسمبلی میں بحث ومباحثہ ہوناچاہیئے اورباقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیئے کہ سرکاری خرچ پر کون دورے کریگا اورکیوں کریگا۔

ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں سٹیٹ ٹیررازم عروج پرہے۔دنیا میں پہلی بارپیلٹ گنز کشمیریوں پر بھارت نےاستعمال کیں۔خواتین کے سرکےبال کاٹےجارہےہیں۔کو​نن پوشپورہ نامی گاؤں میں ریپ کی بدترین مثال قائم کی گئی۔ایف آئی آرز ہوئیں۔آزادحکومت نےغیرملکی دورں میں یا یہاں رہ کر ان امور پر کیاقابل تعریف کام کیا؟اگرکسی ملک یا کسی ادارےسے ہندوستان کودہشتگردملک قرار دلایاگیاہےتو بتایاجائے۔

نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ میمانمار میں مسلمانوں پرظلم کولیکر ساری دنیابول پڑی ہے۔کشمیر کے معاملے میں یورپین یونین۔برطانیہ اور امریکہ کو چھوڑیں۔سنٹرل ایشائی ریاستوں میں سے ہی کسی سے ہندوستان کو دہشتگردقراردلاد​یں توہم کہیں کہ یہ دورے جاری رہنے چاہیں۔اگرایسا کچھ نہیں ہوپارہا تویہ بددیانتی بندکی جائے۔

نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ لبریشن سیل کیلئے ملازمین تودرکنار سٹوڈنٹس پیسے دیتے ہیں اور حکمران ان پیسوں سے ڈرامائی قسم کے دورے کرتے ہیں جو کہ انتہائی شرمناک عمل اورڈوب مرنے کا مقام ہے۔میانمار کو لیکر دنیا بول پڑی اور ہم ڈرامہ کررہے ہیں۔

آزادحکومت کا70 واں یوم تاسیس مناتے ہوئے ہمیں اپنےگریبان میں جھانکنے اورسمت کاتعین کرکے اس پرچلنے کی ضرورت ہے۔صدر اور وزیراعظم کے کام لوگوں کیلئےمثال ہوتے ہیں۔ایک مثال غازی ملت کی ہے اور ایک مثال موجودہ صدر اور وزیراعظم کی ہے۔لوگ خودفیصلہ کرلیں کہ ان میں کیافرق ہے۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares