Home > Articles / Column > عورتوں کی چوٹیاں کاٹنا بہادری نہیں بلکہ ایک بزدلانہ سازش ہے ۔

عورتوں کی چوٹیاں کاٹنا بہادری نہیں بلکہ ایک بزدلانہ سازش ہے ۔

ظہر نصیر بانیہال
برادران اسلام اسلام علیکم و رحمت اللہ علیہ و برکاتہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ
” ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آ ئیں ۔مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جارہے ہیں ۔”(سورہ بنی اسرائیل :41)
اور فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
“جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔”(بخاری و مسلم )
بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ امت مسلمہ کو اصل حقیقت سے باور کراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
“تب تک اس قوم کی حالت نہیں بدلتی ہے
جب تک نہ ہو اس کو خیال اپنی حالت بدلنے کا ۔
برادران اسلام جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ بڑی بڑی قومیں اور بڑے بڑے  گرہو جو حق کو تسلیم کر سکتے تھے حق کا ساتھ دے سکتے تھے حق پر قائم رہے سکتے تھے ۔مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے حق کو ٹھکرا دیا حق کو جھٹلادیا ۔حق پرستوں کو طرح طرح کے ظلم و تشدد سے پریشان کیا ۔تو اللہ تعالٰی کی طرف سے ان پر دردناک عذاب نازل ہوا جس کی وجہ سے وہ قومیں اور وہ  گرہو تباہ و برباد ہو گئے ۔
برادران اسلام اگر مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت ہو تو وہ نماز نہیں پڑیں گے روزہ رکھنے کی اجازت ہو تو وہ روزہ نہیں رکھتے ہوں اسی طرح باقی عبادات کو قائم کرسکتے ہوں تو وہ جان بوجھکر ان کو ترک کر تے ہوں تو یقینن ان پر عذاب الہی نازل ہوگا۔ اور ان پر ایسے  ظالم بادشاہ مصلحت ہوں گے۔جو ان پر طرح طرح کے ظلم و تشدد برپا کر یں گے ۔برادران اسلام بڑی افسوس اور دکھ کی بات ہے۔کہ ہماری ماں بہنوں کی چوٹیوں کو کاٹنے کا جو سلسلہ جاری ہے روز روز نئے نئے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں ہر حال میں اپنی حفاظت اور مدد شامل حال فرما ہمیں باطل کے ہر شر سے محفوظ رکھ جو سازشیں ہمارے ساتھ ہورہی ہیں ان سازشوں کو ناکام بنا ۔
برادران اسلام مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حوصلہ اور ہمت کی ضرورت ہے عورتوںکی چوٹیاں کاٹنا کوئی بہادری نہیں ہے بلکہ یہ ایک بزدلانہ سازش ہے۔ جوایک سوجھی سمجھی پالیسی ہے ۔کشمیری قوم کو اصل موقف سے ہٹانے کی ایک بہت بڑی سازش ہے ۔تاکہ لوگوں کے زہن منتشر ہو جائیں گے ۔اور لوگ اپنا حق بھول جائیں گے ۔مگر یہ ان کی بھول ہے ۔البتہ عوام سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ صبر و تحمل حکمت اور دانائی سے ان سازشوں کا مقابلہ کریں اوراس چیز کا خیال رکھیں کہ کہی ہم سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو جائے کہ کوئی بے گناہ شخص جھوٹی آفواہ پر مارا نہ جائے ظلم ختم کر نے کے بجائے ہم اللہ تعالٰی کی حضور میں ظالم ٹھہریں۔ اگر آپ کو کہی ایسا شخص ملتا ہے جس پر آپ کو کوئی شک یا شبہ ہوتا ہے تو آپ پر یہ فرض عائد ہوتا کہ آپ اس کی پوری تحقیقات کریں ۔
 کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب سے وابستہ ہیں۔جو بغیر تحقیق کے اچھا کام کرنے پر بھی معنی کر دیتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اصول و آداب کا خیال رکھیں اور کردار سازی کا ثبوت پیش کریں ۔انشاءاللہ عنقریب فتح و نصرت ہمارے ساتھ شامل حال ہو گی باطل اور طاغوت کا نام ونشان نیست و نابود ہو گا ۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares