Home > Srinagar News > عوام کوئی بھی کارروائی انجام دینے سے پہلے اسلامی اصولوں کے مطابق تحقیق کریں

عوام کوئی بھی کارروائی انجام دینے سے پہلے اسلامی اصولوں کے مطابق تحقیق کریں

سرینگر//وادی کے طول و عرض میں پُر اسرار طریقے پر خواتین کے بال کاٹنے کی آئے روز وقوع پذیر ہونے والی وارداتوں نے عوام کا سکون چھین لیا ہے اور خوف و دہشت کا ایک مہیب ماحول قائم ہوگیا ہے۔ ریاستی انتظامیہ اور پولیس ان وارداتوں میں ملوث انسان دشمن عناصر کی نشاندہی کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں جس سے عوام الناس کے اندر ان شکوک نے جنم لیا ہے کہ ہو نہ ہو‘ کوئی سرکاری ایجنسی ہی ان واقعات کو انجام دینے میں ملوث ہو تاکہ یہاں ایک افراتفری کا ماحول کھڑا کرکے‘ عوام کے اندر ذہنی انتشار پیدا کیا جاسکے اور سرکاری مظالم کے خلاف یہاں جو عوامی محاذ کی شکل میں ردعمل سامنے آرہا تھا اس کا ازالہ کیا جاسکے۔ اس انتشاری کیفیت سے یہاں کے کاروبارِ زندگی پر زبردست منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور شام ہوتے ہی ایک مہیب خطرہ لوگوں کے سروں پر منڈلانے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چند سماج دشمن عناصر راہ چلتے لوگوں کو بلاوجہ شک کے دائرے میں لاکر نوجوانوں کو نازیبا کارروائیوں پر اُکسانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی بے گناہ افراد کو عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کہ ایک شرم ناک پہلو ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بے گناہ کو موردِ الزام ٹھہرانے یا اُس کو کسی ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار بنانے یہاں تک کہ معمولی ہراساں کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیرکسی کو مجرم گرداننا‘ بہت بڑا ظلم ہے چہ جائیکہ ایسے بے گناہ فرد کو برسرعام رُسوا کرکے قتل کرنے یا جلانے کی کوئی کوشش کی جائے۔ وادی کے کئی علاقوں میں جس طرح بلاکسی واجبی تحقیقات کے جس طرح کئی افراد کو برسرعام بُری طرح پیٹا گیا یہ سراسر اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ اس طرح کی کارروائیاں ہی اسلام اور ملت اسلامیہ کو بدنام کرنے کے مترادف ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ اس طرح کی کارروائیوں پر اُکسانے والے ہی اصل میں مجرم ہیں اور اسلام کے لیے باعث بدنامی ہیں۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر‘ وادی میں بال کاٹنے کی پے در پے وارداتیں رونما ہونے کے لیے یہاں کی سرکاری انتظامیہ اور پولیس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عوام سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مربوط رہ کر اس انتہائی نازک صورتحال کا مقابلہ کریں اور کسی جوش میں آکر کوئی ایسی کارروائی نہ ہونے دیں جو ملت اسلامیہ کشمیر کے لیے باعث ندامت ہو۔ ہر علاقے میں ذمہ دار اور ذی علم افراد پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے کر‘ سماج دشمن اور مشکوک کردار رکھنے والے عناصر پر خصوصی نظر رکھیں لیکن کوئی کارروائی انجام دینے سے پہلے اسلامی اصولوں کے مطابق تحقیق کرکے ہی جید علماءکرام کے ساتھ مشورہ کیا جائے تاکہ کسی کے ہاتھوں کوئی ایسی کارروائی نہ ہونے پائے جو عدل و انصاف اور انسانی حقوق کی پامالی قرار پائے۔
ایڈوکیٹ زاہد علی
ترجمان
جماعت اسلامی جموں وکشمیر

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares