Home > Articles / Column > حافظ محمد سعید کے ہائی کورٹ میں تاریخی الفاظ

حافظ محمد سعید کے ہائی کورٹ میں تاریخی الفاظ

وزرات داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 سیکشن 11 کے ای کے تحت جماعۃ الدعوۃ کو واچ لسٹ میں رکھ کر سیکنڈ شیڈول میں شامل کر دیا تھا۔ اور حکم نامے کی روشنی میں پنجاب حکومت نے اس تنظیم کے متحرک کام کرنے والے بشمول حافظ محمد سعید عبید اللہ عبید، پروفیسر ظفر اقبال، قاضی کاشف نیاز اور مفتی عبدالرحمٰن عابد کو نظر بند کیا گیا تھا اس حوالے سے وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ جماعۃ الدعوۃ نقصِ امن اور سکیورٹی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا ارتکاب کررہی تھی اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب جیسی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہے انسداد دہشت گردی شیڈول کے تحت اس تنظیم کو چھ ماہ کے لیے واچ لسٹ میں رکھا گیا تھا تاہم انسداد دہشت گردی شیڈول 2 جس کا حوالا دیا گیا ہے اس کے تحت یہ تنظیم اپنی کوئی بھی سرگرمی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں چلا سکتی تھی ۔ اسی بنیاد پر آج تک جماعۃ الدعوۃ کو واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے 30 جنوری 2017 کی شام کو حافظ محمد سعید سمیت چار ساتھیوں کو 3 ماہ کے لیے نظر بند کیا گیا تھا اس دن سے لیکر آج تک عدالتوں میں سرکاری وکلاء کی جانب سے کوئی بھی ثبوت حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں کے خلاف عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور صرف عدالتوں کا وقت ضائع کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا گیا ہے۔ 3 ماہ کے بعد جب گورنمنٹ پنجاب نے حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں کے حوالے مزید 3 ماہ کی توسیع کی تو پھر سپریم کورٹ رجسٹری میں ریویوبورڈ کے سامنے حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں کو پیش کیا گیا تو اس موقع پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ان پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق پابندی عائد کی گئی ہے تو جج نے ریمارکس دیتے ہوئے جواب دیا کہ اقوام متحدہ نے تو یہ بھی قرارداد پاس کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اصتصواب رائے کے مطابق کیا جائے لیکن اس پر آج تک عمل درآمد تو نہیں ہو سکا پھر جج نے حافظ محمد سعید سے کہا کہ آپ اس معاملے پر اپنا جواب درج کروانا چاہیں گئے تو حافظ محمد سعید نے کہا کہ مجھ پر جو الزام آج عائد کیے گئے ہیں یہی الزامات 2009 میں بھی مجھ پر عائد کیے تھے جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے مجھے وہاں کلین چٹ دے کر بری کیا تھا کہ میرے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں جاسکا اور آج پھر وہی الزامات دہرائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا قصور اتنا ہے کہ میں نے 2017 کو کشمیریوں کے نام کیا تھا میں کشمیریوں کے حق کے لیے اپنی آواز کو بلند کرتا ہوں تو جج نے دونوں طرف سے بات سنتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا لیکن فیصلہ محفوظ کرنے کے باوجود اس فیصلے کو آن نہیں کیا گیا تھا اور سماعت مکمل ہونے پر ہر دفعہ بنچ کو تحلیل کر دیا جاتا اور پھر نیا بنچ تشکیل دے کر سماعت کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کیا جاتا تھا ۔یہ سلسلہ پہلے دن سے لیکر اب تک جاری تھا لیکن امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید کی بے وجہ 9مہینے نظربندی کے خلاف ان کی جماعت کے کارکنان نے عدالتوں کے خلاف اپنی زبان سے کوئی ایسے الفاظ نہیں نکالے جو پاکستان میں عدلیہ کی توہین کا باعث بنتے اور نہ ہی پاکستان میں کوئی دھندا فساد یا احتجاج نہیں کیا اور ناہی ملکی املاک کو نقصان پہنچایا ہے ۔بلکہ ہمت اور صبر کے ساتھ ہر تاریخ پر اللہ کا شکر ادا کیا ہے اور دوسری طرف پاکستان کے حکمرانوں نے عدالتوں اور اداروں کے خلاف محاز آرائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان کی اعلی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 ججوں نے تاحیات نااہل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا گیا اور دوسری طرف حافظ محمد سعید کو جب نظر بند کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ میری نظربندی کا نوٹس دہلی سے واشگٹن اور واشگٹن سے اسلام آباد آیا ہے ۔حق تو یہ بنتا تھا کہ کشمیری جو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں شہید ہوکر پاکستان کے پرچم میں لپٹ کر دفن ہوتے ہیں پاکستان کے حکمران ان کے لئے اپنی آواز بلند کرتے کشمیر کے لئے اپنا کردار ادا کرتے لیکن انہوں نے بھارتی لابی کامیاب کروایا ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اغیار کے کہنے پر محسن پاکستان واحد کشمیریوں کیوکیل کو جنہوں نے کشمیر کی تحریک کو پاکستان کی ہر گلی اور کوچے تک پہنچایا ہے جو یہ نعرہ لگاتے ہیں جنہوں نے 2017 کو کشمیریوں کے نام کیا تھا اس گناہ کی وجہ انہیں نظربند کیا ہے اور جنہوں پاکستان میں کرپشن علیحدگی کی تحریکیں چلائی اپنوں کے خلاف اغیار کے ساتھ مل ملک میں دہشت گردی کروائی وہ کھلے اور سرعام پاکستان میں گھوم رہے ہیں پاکستان میں 400 کے قریب مذہبی و سیاسی تنظیمیں موجود ہیں جو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی معاملے میں ملوث ہیں اگر قیادت نہیں تو کارکنان کسی مسئلے میں ملوث نظر آتے ہیں لیکن جماعۃ الدعوۃ پاکستان کی واحد منظم اور امن پسند جماعت ہے جس کے کارکنان کسی غیر قانونی مسئلے میں ملوث نہیں ہیں اس کے پیچھے کارکنان کی تربیت ہے تو بات چل رہی تھی حافظ محمد سعید کی انہیں گزشتہ روز ہائی کورٹ میں ریویوبورڈ کے سامنے بند کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ۔ جس میں حافظ محمد سعید کی نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کردی گئی اور ان کے چار ساتھیوں کی 26 اکتوبر کو نظربندی ختم
۔ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا سماعت کے بعد حافظ محمد سعید نے واپسی پر جاتے ہوئے چند الفاظ بولے کہ یہ ملک ہمارا ہے ہم اس کے محافظ ہیں ہم نے ڈٹ کر یہاں پر کام کرنا ہے ہماری فتح ہوئی ہے اور انڈیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہم سرخرو ہوئے ہیں میں پریشان تھا کہ حقیقی محب وطن کون ہے عدالتوں کے پاسدار ہمارے حکمران یا حافظ محمد سعید جنہوں نے سب کچھ برداشت کر کے بھی اپنی عدلیہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا سرفخر سے بلند کیا ہے اور دشمن کو پیغام دیا ہے کہ تمہاری چالیں پھر ناکام ہو گئی ہیں اور ہم پھر سرخرو ہو گئے ہیں

 نام عبدالحنان

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares