Home > Articles / Column > کوئٹہ جو کبھی امن کا شہر ہوا کرتا

کوئٹہ جو کبھی امن کا شہر ہوا کرتا

انور حسین ماگرے
 صدر پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن  دوبئی
……………………………………………….
مصطفی زیدی مرحوم کا ایک شعر ہے 
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں 
        ،تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستا  
 کوئٹہ جو کبھی امن کا شہر ہوا کرتا جہاں پشتون پنجابی اور بلوچ بڑے سکون سے رہا کرتے تھے آج یہ انڈیا امریکہ اور اسرائیل کی بربریت کی نظر ہو گیا ہے “را” نے بلوچستان سے غیر بلوچ عناصر کی صفائی کے لئے آب گم کے مقام کا انتخاب کیا جو کوئٹہ سے پنجاب جانے والے راستے پر ہے اور میدانی علاقہ ہےجہاں لوگ پکنک منانے جاتے دہشت گردوں نے وہاں موجود لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد پنجابیوں کو الگ کیا جن کے آباء و اجداد ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کوئٹہ میں رہ کر بلوچستان کی خدمت کر رہے تھے اس کی وجہ وہاں تعلیم کی کمی تھی اور پڑھے لکھے لوگوں کا نہ ہونا ان سب بے گناہوں کو فائرنگ سے ہلاک کردیا گیا اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا ہے کوئٹہ میں چونکہ پشتون قبائل بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں لہذا یہ دہشت گرد شدید ردعمل کے باعث پشتونوں کو نہیں چھیڑتے ایک سال قبل ایک کشمیری  نوجوان عمران عارف ماگرے  نے کوئٹہ میں بیکری کا کاروبار شروع کیا اس نے اپنی لگن اور محنت سے کاروبار میں ترقی کی  ایک سال قبل شرپسندوں نے اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے نوجوان .عمران عارف ماگرے کو قتل کردیا جو اپنے کاروبار کا واحد کرتا دھرتا تھا یوں اس کی وفات کے ساتھ ہی اس کا کاروبار بھی تباہ ہو گیا پولیس نے کیٹ و لعل کے بعد مقدمہ تو درج کر لیا لیکن پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے ملزمان گرفتار نہیں ہوئے لواحقین کو روزانہ ایک نیا لارا لگا دیا جاتا ہے کہ کیس میں پیش رفت ہو رہی ہے جلد ملزم گرفتار ہوں گے اور یہی پولیس کا طریقہ کار ہے دہشتگردی کے علاوہ ایک پہلو اور بھی ہے کہ غیر بلوچ و پشتون کے علاوہ کسی دوسرے کے کاروبار پر قبضے کے لئے اسے قتل کر دیا جاتا ہے اس کے بعد یا تو یہ کاروبار اونے پونے خرید لیا جاتا ہے اگر لواحقین مزاحمت کریں تو انصاف کے حصول میں بڑے طریقے رکاوٹیں ڈلوائی جاتی ہیں اور یہ متعڈ مرتبہ ہو چکا ہے بلا شبہ وفاقی سرکاری ادارے دہشگردی سے مصروف پیکار ہیں لیکن مقامی پولیس کے تو سب کچھ علم میں ہوتا ہے اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور ملزموں کی فوری گرفتاری کو ممکن بنائیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں بلوچستان حکومت خاص طور پر وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کی انتھک کوششوں کے سبب دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے  تاہم عمران عارف ماگرے قتل کیس میں عرصہ ایک سال گزر جانے کے باوجود کوئی اہم پیش رفت تک نہ   ہو سکی اور عام لوگوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی کے جو جذبات پیدا ہوئے تھے اس قسم کے واقعات سے انہیں نقصان پہنچنے کا شدید احتمال ہے  .مقتول عمران عارف کے کے ورثا جو کہ آذاد کشمیر میں مقیم ہیں اپنے جواں سالہ بیٹے کی انتہائی بے دردی سے قتل پر سخت افسردہ ، غم سے نڈھال اور اپنے بیٹے کے لیے انصاف کی بھیگ مانگنے پر مجبور ہیں ،وہ اپنے بے گناہ بیٹے کے قاتلوں کو جلد از جلد تختہ دار پر لٹکتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔تاہم عمران  عارف ماگرے  کے قتل کی فریاد لے کر کس کے پاس جائیں، تھانہ دکی کے متعلقہ عملہ نے عرصہ  سال گزرنے کے باوجود اس اہم قتل کیس میں چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اور ورثا کو انصاف دلانے کے بجائے فون اٹھانے سے بھی قاصر ہے ۔،مقتول عمران عارف ماگرے کے بھائی کامران عارف ماگرے نے وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ، آئی جی پولیس بلوچستان ،اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس
 وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور وزیر اعلی بلوچستان سردار ثناء اللہ زہری اور پولیس کے صوبائی سربراہ  چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے خصوصی درخواست ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے پر اپنی خصوصی توجہ دیں اور مظلوم خاندان کو انصاف دلائیں 

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares