Home > Kotli News > فاروق حیدر نے یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کوکنٹرول لائن دورے کی دعوت دیدی

فاروق حیدر نے یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کوکنٹرول لائن دورے کی دعوت دیدی

برسلز وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر نے یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کو لائن آف کنٹرول کے دورے کی دعوت دیدی .

وزیراعظم نے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی انسانی حقوق کمیٹی برائے یورپی پارلیمنٹ کی سب کمیٹی کے سربراہ مسٹر پن زاری ،ممبر آف سول رائٹس کمیٹی یورپی پارلیمنٹ مسٹر فے تیور ،سربراہ ہیومن رائٹس ود آؤٹ بارڈر بیلجیم و ممبر برسلز پارلیمنٹ مسٹر ڈینیل کراؤن ممبر یورپین پارلیمنٹ مسٹر سائمن ،ممبر سول رائٹس کمیٹی یورپین پارلیمنٹ مسز اینا گونز ،ممبر یورپی پارلیمنٹ مس جولی ،ممبر یورپی پارلیمنٹ واجد خان ،ممبر یورپین پارلیمنٹ سجاد حیدر کریم ،سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ مسٹر ہلٹن اور دیگر شخصیات سے ملاقات کی

اس موقع پر فاروق حیدرنے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت کی طرف سے کالے قوانین کے نفاذ ،انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ،عورتوں اور بچوں کے قتل عام،نہتے عوام پر مہلک ہتھیاروں کے استعمال ،ہزاروں گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے ،مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں گمنام قبروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے قتل عام میں ملوث ہیں مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں گمنام قبریں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا بہت بڑا سکینڈل ہے جس کی عالمی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیں قابض بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی دونوں اطراف میں سویلین افراد کوشہید کرنا شروع کر رکھاہے قابض افواج خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں رواں سال کے دوران قابض بھارتی افواج نے سینکڑوں مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی بھارتی جارحیت کے نتیجہ میں رواں سال کے دوران 38افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ بھارتی جارحیت کی نتیجہ میں رواں سال کے دوران 227افراد زخمی ہوئے 46مکانات تباہ ہوئے بھارت ایل او سی پر سویلین آبادی کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف میں بھارتی فوج کا نشانہ کشمیری خواتین اور بچے ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہاہے

 

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares