Home > kashmir > گیسو تراشی کے واردا توں نے ظلم ،خوف و دہشت میں مزید اضافہ کیا

گیسو تراشی کے واردا توں نے ظلم ،خوف و دہشت میں مزید اضافہ کیا

گیسو تراشی کے واردا توں نے ظلم ،خوف و دہشت میں مزید اضافہ کیا
اس گناﺅنی سازش کے آڑ میں اب مزید جرائم کا ارتکاب ہورہا ہے(حامی)
گیسو تراشی کا معاملہ حل کرنے کے بجائے اس کو مزید پیچیدہ بنا کر اور ریاست کی عزت مآب خواتین کو طرح طرح کے حتک آمیز القاب سے نوازنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کاروان اسلامی کے امیر پیر طریقت غلام رسول حامی نے کہا کہ کشمیر کی ماں بہنوں کے ساتھ ایسے شرمناک واقعات قابل صد افسوس ہیں اور ایسے واقعات کو سراسر عزت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف قرار دیا جائے اور اس گناﺅنی سازش کی آڑ میں اب مزید جرائم کا ارتکاب ہونا شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے ریاستی عوام سے اپیل کی کہ وہ گیسو تراشی کرنے والے افراد کی نشان دہی کرتے وقت اس با ت کا خیال رکھیں کہ کسی ایسے شخص کی عزت پامال نہ ہو جس کا ان واقعات کے ساتھ دور دور کا تعلق نہیں ہو۔ مرکزی جامع مسجد ابوتراب میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر کاروان نے کہا کہ جس طریقے سے حالات کو بنایا جارہا ہے اس کا اثر اب ریاست کی سیاحت، تعلیم اور روز مرہ کی زندگی پر براہ راست پڑنا شروع ہو گیا ہے جس سے یہ صاف ہورہا ہے کہ گیسو تراشی کا معاملہ ایک منظم شدہ سازش کے تحت چلایا جارہا ہے تاکہ ریاست میں خوف و دہشت کو مزید بڑھاوا دیا جائے اور ریاست میں انارکی اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا کیا جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو کسی بھی تحقیقاتی اور سیکیورٹی ادارے سے امید وابستہ کرنے کے بجائے خود اعتمادی اور ہوشیاری سے اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنی بستیوں میں چاک و چوبند رہنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں چند واقعات رونما ہوئے تھے جس کو لیکر میڈیا نے بڑے بڑے ڈیبیٹس اور خبریں چلائی تھی لیکن مظلوم ریاستی ؑعوام کی آواز کو جس طریقے سے دبایا جارہا ہے وہ اس دورخی پالیسی کا ثبوت ہے جس کو لیکر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہو ں نے ان اداروں سے سوال کرکے کہا جو مطلوبہ افراد کو رات کی اندھیری میں بھی بستیوں سے چن کر نکالنے میں کوئی چونک نہیں کرتے وہ ایک مہینے کے عرصے سے کسی گیسو تراش کو نشانہ بنانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتے جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ یہ معمول کی طرح کسی منصوبہ بند سازش کا ہی محاصل ہے جس کا پردہ فاش ہوچکاہے۔ امیر کاروان نے کہا کہ زندگی کے ہر مرحلے میں مسلمان کو چاہئے کہ اللہ ورسول کے مقرر کردہ اصولوں پر پابندی سے قائم رہیں تاکہ مصیبت کی گڑیوں میںاللہ کی نصرت کو ضرور اپنے ساتھ پائیں۔

Share this News!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares